Loading
آبنائے ہرمز میں دو مال بردار کنٹینر جہاز نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آگئے جس کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق دونوں واقعات کی اطلاعات تاخیر سے موصول ہوئیں۔ پہلے واقعے میں 50 ہزار ٹن اور دوسرے واقعے میں 19 ہزار ٹن وزنی کنٹینر سے نامعلوم پروجیکٹائل ٹکرایا۔
ان دونوں واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جہاز کو معمولی نقصان پہنچا ہے جس کے بعد دونوں جہازوں نے اپنی منزل کی جانب سفر کو جاری رکھا۔
ابھی ان جہازوں کی ملکیت اور منزل کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ دونوں جہازوں کو نشانہ بنانے والے پروجیکٹائلز کی نوعیت اور حملوں کے ذمہ داروں کی شناخت تاحال واضح نہیں ہوسکی۔
ایک جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہو رہا تھا جبکہ دوسرے کو اس آبی گزرگاہ سے نکلتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔
تاحال ان حملوں کی ذمہ داری کسی گروہ، فوج یا ملک نے قبول نہیں کی ہے البتہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے کیے جاتے رہے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کیے جانے پر ایران نے مارچ سے اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
صرف مخصوص جہازوں کو پیشگی اجازت نامے کے بعد گزرنے دیا جاتا ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والے کنٹینرز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جس سے اس آبی گزرگاہ میں روزانہ صرف پانچ سے دس جہاز گزر پاتے ہیں جن کی تعداد جنگ سے قبل 100 سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔
اس طرح دنیا کو پیٹرول کی قلت کا سامنا ہے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ یہاں پیش آنے والے حالیہ واقعات سے بحری کمپنیوں اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل