Loading
غزہ میں جنگی جرائم میں ملوث اسرائیلی فوج اور انٹیلی جینس کے چودہ اہلکاروں کی گواہیوں پر مبنی دستاویزی فلم ’’ نازا ‘‘ کی عالمی دھوم کا تذکرہ تو آپ تک پہنچ ہی چکا ہو گا۔ اس فلم میں بیان کردہ حقائق کو اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ نے چیلنج کرنے کے بجائے انھی پھٹیچر ہتھکنڈوں کا سہارا لیا جو کسی بھی جابرانہ ریاست کا وتیرہ ہوتے ہیں۔یعنی اس فلم کو یہود و اسرائیل دشمن پروپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ ان حقیقی کرداروں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی دھمکی دی گئی جن کی شہادتیں اس فلم میں چہرہ اور شناخت بدل کے فلمبند کی گئیں۔فلم کے دو اسرائیلی ڈائریکٹرز کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی اور فلم کی اسرائیل میں ممکنہ نمائش کو قابلِ تعزیر سنگین جرم کے خانے میں رکھ دیا گیا۔
ظاہر ہے کہ کوئی بھی جابرانہ ریاست ایسی کسی بھی پن کی چبھن برداشت نہیں کر سکتی جو سوچے سمجھے بیانئیے کے اس غبارے کو پھوڑ سکتی ہو کہ جس غبارے میں پوری آبادی کو ذہنی طور پر قید رکھنے کی سرتوڑ کوشش کی جاتی ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ بعض سانحات و واقعات اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ جھوٹ کی چادر چھوٹی پڑ جاتی ہے۔سر ڈھانپا جائے تو پاؤں کھل جاتے ہیں۔
نازا جیسی فلم کوئی پہلی کوشش نہیں۔موقر جرمن اخبار دیر شپیگل اور انسانی حقوق کی ایک اسرائیلی تنظیم ’’ بریکنگ دی سائلنس ‘‘ نے بھی اپنے طور پر دس ایسے اسرائیلی اہلکاروں کی شہادتیں جمع کی ہیں جو غزہ کے قتلِ عام میں براہِ راست ملوث رہے ہیں۔ان میں سے سوائے ایک کے باقی سب نے غزہ میں دوبارہ پوسٹنگ سے انکار کر دیا۔
ایک فوجی نے بتایا کہ ہمارا بریگیڈ غزہ میں اکیاسی دن تعینات رہا۔ہم نے اس عرصے میں تقریباً ایک سو ستر لوگوں کو ہلاک کیا۔ان میں سے صرف ایک شخص کے بارے میں شبہہ ہوا کہ وہ مسلح ہے مگر کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہو سکا۔
ایک اور فوجی نے بتایا کہ ہمیں کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کے خلاف آپریشن کی زد میں آنے والے آس پاس کے لوگ مارنے کی بھی اجازت تھی۔مثلاً اکتیس اکتوبر دو ہزار تئیس کو ہم نے جبالیہ کیمپ میں اپنے ذرائع سے حماس کے ایک بٹالین کمانڈر ابراہیم بیاری کی موجودگی کا سراغ لگا لیا۔جبالیہ کیمپ انتہائی گنجان علاقہ تھا اور یہ ناممکن تھا کہ صرف مطلوبہ ہدف کو ہی نشانہ بنایا جا سکے۔ہمیں یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ ابراہیم بیاری کیمپ کے کس علاقے میں موجود ہے مگر یہ معلوم کرنا بہت مشکل تھا کہ بیاری دراصل ساتھ ساتھ جڑے کس مکان میں ہے۔
ہمیں بتایا گیا کہ آرمی چیف آف اسٹاف نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ابراہیم بیاری کو ہلاک کرنے کے مشن میں دیگر لوگ بھی مارے جاتے ہیں تو سودا برا نہیں۔چنانچہ اس حکم پر عمل ہوا اور بھاری بمباری کے سبب جبالیہ کیمپ کے اس حصے میں ٹارگٹڈ حماس کمانڈر کے ساتھ ساتھ تین سو سے زائد دیگر انسان بھی مر گئے۔
اسی طرح ڈرونز اڑانے والے ایک ٹیکنیشن کو ایک مشن کے دوران شبہہ ہوا کہ ایک گھر کی چھت پر لگی تار پر کپڑے سکھانے والا فلسطینی دراصل حماس کا مخبر ہے جو ڈرونز پر نگاہ رکھنے کے لیے چھت پر منڈلا رہا ہے۔یقیناً اس گھر میں ’’ مسلح حماسی ‘‘ رہتے ہیں۔ چنانچہ موقع پر موجود ٹینک بٹالین کمانڈر نے فائر کھولنے کا حکم دیا۔بھاری گولوں سے پورا گھر اڑا دیا گیا۔کچھ دیر بعد خبر ملی کہ اس گھر میں بارہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر مشتمل ایک پورا کنبہ ختم ہو گیا۔
ایک فوجی نے بتایا کہ میں رفاہ میں تعینات تھا۔ہماری کمپنی نے جس گھر کو اپنا مرکز بنایا وہاں تین فلسطینی پکڑ کے لائے گئے۔ان کی آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ پیچھے باندھے گئے تھے۔وہ صرف انڈروئیر اور جوتوں میں تھے۔انھیں ہم نے فوجی وردیاں پہنائیں اور سر پر گو پرو کیمرے باندھ دیے تاکہ انھیں ایسے گھروں اور سرنگوں میں داخل کیا جا سکے جہاں ہمیں شبہہ تھا کہ مسلح حماسی چھپے ہوئے ہیں یا پھر انھوں نے بارود بچھایا ہوا ہے۔یعنی ہم نے ان فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
ایک فوجی نے بتایا کہ ہماری کوشش ہوتی تھی کہ جتنے بھی لوگ ہلاک ہوں انھیں بطور حماس دہشت گرد ہی گنا جائے تاکہ ان اموات کو میڈیا باآسانی ہضم کر لے۔ناصر اسپتال پر حملے کے دوران چھ لوگ مارے گئے اور اعلان ہو گیا کہ یہ حماسی دہشت گرد تھے اور اسپتال دہشت گردی کا مرکز ہے۔مگر کچھ ہی دیر بعد پتہ چل گیا کہ مرنے والے دراصل چھ کے چھ صحافی اور کیمرہ مین ہیں۔ان میں رائٹرز خبررساں ایجنسی کا ایک صحافی بھی شامل تھا۔چنانچہ ہائی کمان کی جانب سے بس یہ کہا گیا کہ فوج اپنے طور پر اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ایک اور فوجی نے بتایا کہ ہماری بٹالین کو جس جگہ تعینات کیا گیا وہاں کی سب سے بلند عمارت کو تباہ کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ ایسی عمارتوں میں دہشت گرد چھپ کر ہمیں آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔جب ہم نے یہ عمارت اڑا دی تو پھر ایک اور ذرا سی کم نیچی عمارت سامنے آ گئی۔چنانچہ ہم ایک کے بعد ایک عمارت اڑاتے چلے گئے۔یعنی پورا علاقہ ہی تقریباً صاف کر دیا تاکہ دور تک نگرانی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔
جب بھی ہم کسی عمارت یا گھر کو کچھ عرصے کے لیے مرکز بنانے کے بعد خالی کرتے تو ہمیں ہدائیت تھی کہ جاتے وقت اس عمارت کو نذرِ آتش کر دیا جائے تاکہ یہ کسی اور کے رہنے کے قابل نہ رہے۔
اس دوران سال بھر سے جاری نام نہاد جنگ بندی کے پردے میں اسرائیل نے اپنی زرد لائن رفتہ رفتہ آگے کھسکھاتے ہوئے اسے جنگ بندی سمجھوتے میں طے شدہ غزہ کے چون فیصد رقبے سے بڑھاتے بڑھاتے چونسٹھ فیصد کر لیا ہے یعنی بائیس لاکھ فلسطینی غزہ کے صرف چھتیس فیصد علاقے میں ٹھونس دیے گئے ہیں۔جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج نے دس کلومٹر کی چوڑائی میں پیش قدمی کے بعد جنگ بندی کی آڑ میں غزہ کی طرز پر اسی قصبات اور دیہاتوں کو صفحہِ ہستی سے مٹا دیا ہے تاکہ یہاں مستقبل میں کوئی واپسی کا سوچے بھی نہیں۔
ایسے سیکڑوں جیتے جاگتے شواہد پوری اسرائیلی سول و فوجی قیادت کو بین الاقوامی جرائم کی عدالت کے کٹہرے میں لا کر سزا دلانے کے لیے کافی ہیں مگر امریکا نے بین الاقوامی عدالت پر ہی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔یعنی اس عدالت سے جو بھی ادارہ یا ریاست سروکار رکھے گا وہ بھی ٹرمپ انتظامیہ کے غیض و غضب کا شکار ہو سکتا ہے۔ایک محاورہ ہے کہ زبردست مارے بھی اور رونے بھی نہ دے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل