Loading
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے موجودہ صورتحال میں صوبوں کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر دیا۔
گارڈن ٹاؤن لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس دہشت گردی کے ماحوٹمیں جمعیت کے ڈھائی سو کارکن شہید ہوئے ہیں، یہ بہانہ دینا یہ کسی ملک کےلئے مذاق ہے ، کیا ریاست ان قربانیوں کا مذاق اڑائے، ہم قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شوق نہیں ایسی گفتگو کریں اپنی ہی قربانیوں اور اپنوں کی قربانیوں کی بات کریں، ان کیمرہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے، یہ کہنا اس کے بغیر چلا ہے، اس کے بغیر چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ میں اصولی آدمی ہوں، بھٹو نے 73 میں ایمرجنسی لگائی تھی، ہمارے لوگوں نے احتجاج کیا تھا، میرے والد نے استعفیٰ دیدیا تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا یہ جمہوریت کا عمل ہے، کیا بلوچستان میں دہشت گردی نہیں ہے، صوبوں کو اعتماد میں لو، اپوزیشن میں رہے ہیں، کتنے مقامات پر احتجاج کیا گیا، مجھے چھ ماہ جیل میں نہیں ڈالا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل