Loading
نسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت 3 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا جبکہ تفتیشی افسر کی مسلسل عدم پیشی اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کئے جانے پر ایس پی اور ڈی ایس پی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو متعلقہ افسران کو جیل بھیجنے کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب عدالت نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے تناظر میں گرفتار کارکنان کو مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا جبکہ چیئرپرسن جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کی ضمانت بھی پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ ملزمان کی جانب سے وکلا ریاست علی آزاد اور ایمل خان مندوخیل عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ سرکاری وکیل راجہ نوید حسین بھی عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی عدم موجودگی پر عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہے اور نظر کیوں نہیں آ رہا؟ نائب کورٹ نے بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان گیا ہوا تھا اور ابھی تک واپس نہیں آیا۔ اس پر عدالت نے ایس پی انویسٹی گیشن کو فوری طور پر طلب کر لیا۔
وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل آصف عرفان ایڈووکیٹ نے عدالت سے کہا کہ عدالت بے بس نہیں ہے اور ابھی تک مقدمے کا ریکارڈ بھی نہیں منگوا سکی۔ وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمانت کی درخواست 29 تاریخ کو دائر کی گئی تھی اور عدالت نے نوٹس بھی جاری کیے تھے، تاہم تفتیشی افسر کی عدم موجودگی کے باعث کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی۔
ریاست علی آزاد نے کہا کہ ایسے متعدد مقدمات میں اگر تفتیشی افسر موجود نہ ہو تو پولیس کا دوسرا اہلکار ریکارڈ لے کر عدالت میں پیش ہو جاتا ہے، عدالت آخر کب تک انتظار کرتی رہے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے اپنے حکم کے مطابق جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں اور تمام دفعات قابل ضمانت ہیں، اس لئے مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اے ٹی اے بھی شامل کر دی گئی ہے۔
عدالت کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ سماعت کے دوران وکلا نے عدالتی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کی درخواستوں پر چار سے پانچ دن میں فیصلہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں تاخیر سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ دوسرے کیس کے ٹرائل میں سزا ہوگی اور اس کے بعد میں ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کیا جائے گا، اس تاثر کو ختم کرنا ضروری ہے۔
وکیل علیم عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرے اور میرٹ پر فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا برادری عدلیہ کی آزادی کے لیے عدالت کے ساتھ کھڑی ہے، اگر عدالت اپنے اختیارات استعمال نہیں کرے گی تو سب کچھ چھن جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وکلا انصاف کے نعرے لگاتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو انصاف نہیں دلا پا رہے، اس لیے عدالت کو اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے ۔ وکیل ظفر کھوکھر نے بھی کہا کہ وکلا عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرکے چلے جائیں گے، لیکن اس صورت حال سے عدلیہ کے بارے میں اچھا تاثر نہیں جائے گا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ وہ کون سے قواعد اور قوانین ہیں جن کے تحت تفتیشی افسر مقدمے کا ریکارڈ اپنے ساتھ لے گیا؟ ریکارڈ کوئی ایسی چیز نہیں کہ اسے عدالت میں پیش ہی نہ کیا جا سکے۔
اس موقع پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین وکلاء سے مخاطب ہوئے کہا کہ وکلا کا اس طرح کا رویہ ہوگا تو اچھا نہیں لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی کے وی لاگ یا باتوں سے فرق نہیں پڑتا اور وہ ہمیشہ توازن کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
جج نے کہا کہ انہوں نے اس کرسی پر بیٹھ کر ہمیشہ ریلیف دیا ہے اور ماضی میں پی ٹی آئی کارکنان کو بچانے کے لیے بھی اقدامات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریکارڈ کے بغیر ضمانت دینے کا کوئی قانونی راستہ ہے تو اس حوالے سے قانون میں ترمیم کروا دی جائے ۔ ریاست علی آزاد نے کہا کہ اگر ریکارڈ پیش نہیں کیا جاتا تو عدالت اپنے فیصلے میں اس صورت حال کا ذکر کرے، کیونکہ ضمانت منظور ہونے کی صورت میں پوچھ گچھ تفتیشی افسر سے ہوگی، عدالت سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور مقدمہ بھی فیصلہ سنانے کے لیے تیار ہے۔ عدالت نے بعد ازاں سماعت میں وقفہ کر دیا ۔
وقفے کے بعد ایس پی خرم اور ڈی ایس پی نعیم یوسف عدالت میں پیش ہوئے۔ ایس پی نے بتایا کہ تفتیشی افسر خپلو گیا ہوا ہے اور واپسی پر عدالت میں پیش ہو جائے گا۔ اس پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ یہ کیا طریقہ ہے، تفتیشی افسر کب واپس آئے گا؟ عدالت میں سب لوگ انتظار کر رہے ہیں اور عدالت نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
عدالت نے ڈی ایس پی نعیم یوسف سے تفتیشی افسر کی واپسی کے بارے میں واضح جواب طلب کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس میں مزید 10 سے 15 دن لگ سکتے ہیں۔ جج نے پولیس حکام سے کہا کہ ان کی وجہ سے لوگ تھک چکے ہیں اور پولیس کی جانب سے تاخیر کے باعث پی ٹی آئی کارکنان کو مقدمات میں طویل عرصے تک پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ کارکنان کو تنگ کرنے کی صورت حال سے تنگ آ کر انہوں نے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کیا ہے ۔ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے خبردار کیا کہ اگر مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو ایس پی اور ڈی ایس پی کو جیل جانا پڑ سکتا ہے۔
عدالت نے دونوں افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
دوسری طرف انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پیش نظر گرفتار کارکنان کے مقدمات میں بھی اہم حکم جاری کیا۔ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تھانہ شالیمار اور تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمات میں شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل کیے گئے پی ٹی آئی کارکنان کو مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل