Monday, October 19, 2026
 

’مجھے یقین نہیں تھا زندہ بچوں گا‘، فلائی دبئی طیارے میں زخمی انڈین پائلٹ کا انکشاف

 



دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے کپتان نے انکشاف کیا ہے کہ دورانِ پرواز ان کے معاون پائلٹ نے کلہاڑی سے حملہ کیا تو انہیں اپنی جان بچنے کا یقین نہیں تھا۔ بھارتی شہری کپتان سمت مچھر نے حملے کے دوران سر پر ہونے والے وار اپنے بازو سے روکنے کی کوشش کی اور مدد کے لیے چیختے رہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، کپتان نے ابوظبی کے ایک اسپتال میں اخبار ’دی نیشنل‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی وار کے بعد انہیں پہلے لگا کہ طیارے کے ڈھانچے میں کوئی سنگین خرابی پیدا ہوگئی ہے، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ ان پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ کپتان کے مطابق، انہوں نے فوراً سیٹ بیلٹ کھولنے کی کوشش کی اور خود کو بچانے کے لیے وار روکتے رہے۔ حملہ آور کے وار ان کے سر کی جانب آ رہے تھے، جبکہ دفاع کے دوران ان کا بازو بھی زخمی ہوگیا۔ انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کے لیے نوب تک ہاتھ بڑھایا اور اپنے ساتھیوں کو مدد کے لیے پکارتے رہے۔ اسی دوران وہ بے ہوش ہوگئے۔ واقعہ فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آیا، جو اس وقت سعودی عرب کی فضائی حدود میں تھی۔ رپورٹ کے مطابق، حملے کے نتیجے میں طیارہ صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 16 ہزار فٹ نیچے آ گیا۔ بعد ازاں طیارے میں موجود دیگر دو پائلٹس اور عملے نے حملہ آور پر قابو پایا اور جہاز کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا۔ متحدہ عرب امارات کے استغاثہ کے مطابق، معاون پائلٹ طیارے کو اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ سے ٹکرانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ منصوبہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے حملوں سے متاثر تھا۔ ملزم عمان کا شہری بتایا گیا ہے، جسے بعد میں متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا۔ کپتان سمت مچھر نے بتایا کہ طیارے کی ناک کو تیزی سے نیچے کی جانب جاتے دیکھنا ان کے لیے سب سے خوفناک لمحہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ بچ پائیں گے یا نہیں، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل