Tuesday, October 20, 2026
 

امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے والی عالمی عدالت یورپی یونین کے انسانی حقوق انعام کے لیے نامزد

 



امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو یورپی پارلیمان کے انسانی حقوق کے نمایاں انعام ’’سخاروف پرائز‘‘ کے تین حتمی امیدواروں میں شامل کرلیا گیا ہے۔ عدالت کی نامزدگی کو عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی پارلیمان نے پیر کو انعام کے لیے تین امیدواروں کا اعلان کیا۔ نیدرلینڈز میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے علاوہ تنزانیہ کی اپوزیشن جماعت چاڈیما کے رہنما تندو لیسو اور ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے پر سزا پانے والی جڑواں بہنیں ترانے اور رومینا رحیمی بھی حتمی امیدواروں میں شامل ہیں۔ 1988 میں قائم ہونے والا سخاروف پرائز سوویت یونین کے منحرف رہنما آندرے سخاروف کے نام سے منسوب ہے۔ یہ انعام ہر سال انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد یا تنظیموں کو دیا جاتا ہے۔ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے یورپی قانون ساز بیری اینڈریوز نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی حمایت کرنا پہلے سے زیادہ اہم، لیکن مشکل بھی ہوگیا ہے۔ تنزانیہ کی اپوزیشن جماعت چاڈیما کے سربراہ تندو لیسو کو اپریل 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر گزشتہ سال کے انتخابات کے بائیکاٹ کے لیے عوام کو اکسانے کا الزام ہے اور غداری کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایران کی 21 سالہ جڑواں بہنوں ترانے اور رومینا رحیمی کو حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے الزام میں بالترتیب سزائے موت اور 36 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے رواں ماہ بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان پابندیوں کا مقصد عدالت کے روزمرہ امور اور عملی سرگرمیوں کو متاثر کرنا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات اور متعلقہ افراد کے خلاف مقدمات چلاتی ہے۔ امریکی انتظامیہ عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں مبینہ جرائم کے معاملے پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے پر سخت اعتراض کرتی رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے، جبکہ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سخاروف پرائز کے لیے نامزدگی بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اداروں کی حمایت کا پیغام ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل