Loading
وینیزویلا کی جانب سے طویل عرصے سے تقریباً 300 ارب بیرل سے زائد خام تیل کے ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے، جس کے باعث وینیزویلا کو دنیا کا سب سے زیادہ تیل رکھنے والا ملک قرار دیا جاتا ہے۔
امریکی اور بین الاقوامی توانائی کے اعداد و شمار میں بھی یہ مقدار تقریباً 300 ارب بیرل کے آس پاس بتائی جاتی ہے۔
یہ ذخائر بڑی حد تک اورینوکو بیلٹ میں موجود ہیں، جہاں انتہائی بھاری اور گاڑھا خام تیل پایا جاتا ہے۔
تاہم اب اختلافات سامنے آرہے ہیں۔ وینیزویلا اور اوپیک کے اعداد و شمار میں 300 سے 303 ارب بیرل کے قریب ذخائر درج ہیں، امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کے مطابق بھی وینیزویلا کے پاس تقریباً 300 ارب بیرل تک ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر ہو سکتے ہیں، جبکہ تکنیکی طور پر قابلِ بازیافت وسائل کے پرانے تخمینے اس سے کہیں زیادہ رہے ہیں۔
لیکن بعض ماہرین ان اعداد و شمار کی شفافیت اور پرانے تخمینوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔
حالیہ تجزیوں میں بعض ماہرین نے حقیقی طور پر قابلِ حصول ذخائر کو اس سے کہیں کم، تقریباً 60 سے 120 ارب بیرل تک قرار دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر رکھنے کے باوجود وینیزویلا کی موجودہ پیداوار ان ذخائر کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ برسوں کی کم سرمایہ کاری، پرانا انفراسٹرکچر، تکنیکی مشکلات اور تیل کی صنعت میں انتظامی مسائل نے پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔ 2025 میں ملک کی پیداوار تقریباً 11 لاکھ بیرل یومیہ کے آس پاس رہی۔
اسی وجہ سے 300 ارب بیرل کا عدد فوری طور پر دستیاب 300 ارب بیرل تیل نہیں سمجھا جا سکتا۔ مزید برآں اصل اہمیت اس بات کی بھی ہے کہ ان ذخائر میں سے کتنا تیل موجودہ معاشی اور تکنیکی حالات میں منافع بخش انداز میں نکالا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ذخائر کی مقدار اور انہیں معاشی طور پر نکالنے کی صلاحیت دو مختلف چیزیں ہیں۔
وینیزویلا کے تیل کا بڑا حصہ نکالنے، صاف کرنے اور مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بھاری سرمایہ کاری اور بہتر بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل