Loading
شہر قائد کے علاقے گڈاپ کے فارم ہاؤس میں ملازمت اور تربیت کا جھانسہ دیکر کر لائی گئی 50 سے زائد خواتین کے موبائل چوری کے درج مقدمے کی مدعیہ کو جان کا خطرہ لاحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مرکزی ملزم ساحل کے خلاف مقدمہ درج کروانے والی خاتون نے شارع فیصل تھانے میں اپنی اور اہلخانہ کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے درخواست جمع کرا دی جس میں واٹس ایپ پر آنے والی دھمکیوں کا اسکرین شاٹ بھی پولیس کو فراہم کیا گیا ہے۔
خاتون کے مطابق انہیں مقدمے سے دستبردار ، قتل اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ان کا تعاقب بھی کیا جا رہا۔ گڈاپ سٹی تھانے میں 50 سے زائد خواتین کے موبائل فونز چوری کرنے کے درج مقدمے کی مدعیہ خوشنما واصف جو کہ گلستان جوہر بلاک 18 کی رہائشی ہیں انھوں نے شارع فیصل تھانے میں اپنی اور اہلخانہ کی جان و مال کے تحفظ کے لیے درخواست جمع کرا دی۔
خاتون نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بیان دیا ہے کہ 20 اکتوبر کو واٹس ایپ کے ذریعے مقدمے سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج اور قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جس کا اسکرین شاٹ فراہم کیا گیا ہے۔
مدعیہ کے مطابق 21 اکتوبر کو وہ ملازمت کے سلسلے میں جا رہی تھی کہ موٹر سائیکل سوار 2 نامعلوم افراد انھیں دیکھ کر مبینہ طور پر قتل کرنے کا اشارہ کیا اور ایک شخص نے میرے قریب آکر مجھے پکڑنے کی بھی کوشش کی تاہم اس میں وہ ناکام رہا اور اس دوران میرے کندھے سے اس کا ہاتھ ٹچ ہوا جس کے بعد دونوں افراد تیزی سے جوہر موڑ کی جانب فرار ہوگئے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس واقعے اور پہلے ملنے والی قتل کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنی جان کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں لہذا پولیس سے درخواست کرتی ہوں کہ واٹس ایپ پر دھمکیاں دینے والے افراد ، موٹر سائیکل سوار 2 نامعلوم افرد اور ملزم بابر کے کردار کے حوالے سے تحقیقات کر کے قانون کے مطابق فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
درخواست گزار خاتون نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ مجھے اور اہلخانہ کو جانی و مالی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی اور ملازمت جاری رکھ سکے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل