Loading
پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستان کے لیے ایرانی سرحدیں بند کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو ایل پی جی سمیت کسی بھی ایرانی سامان کی برآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں۔
ایرانی سفیر نے اتوار 25 اکتوبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ ایران کی اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں اور موجودہ حالات میں بالخصوص برادر ملک پاکستان کے ساتھ سرحد بند کرنا نہ تو منطقی ہوگا اور نہ ہی یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
رضا امیری مقدم نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو ایل پی جی سمیت ایرانی مصنوعات کی برآمد پر فی الحال کوئی پابندی نہیں ہے۔
ان کے مطابق پاکستان میں ایران سے درآمدات کے لیے ای فارم کے طریقہ کار پر عمل درآمد میں تبدیلیوں نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ تاجر عملی طور پر ایران سے پاکستان سامان روانہ کرنے سے قاصر ہیں۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو معمول پر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایل پی جی سے لدے کئی سو ٹرک ایران کی جانب سے رمدان سرحد عبور کرکے پاکستان کے علاقے گبد میں داخل ہو چکے ہیں۔
ان کے بقول تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ان ٹرکوں سے سامان اتارا نہیں جا سکا اور نہ ہی انہیں کلیئرنس مل سکی ہے، جس کے باعث تجارتی سامان کی نقل و حرکت اور دوطرفہ تجارت کا تسلسل متاثر ہو رہا ہے۔
Clarification Regarding Reports on the Closure of Iranian Borders to Pakistan
With regard to reports concerning the closure of Iranian borders to Pakistan, I would like to clarify a few important points here:
First, there are currently no restrictions on the Iranian side on the…
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) October 25, 2026
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد پار تجارت دونوں ممالک کی اعلیٰ سطح پر طے پانے والے دوطرفہ معاہدوں کا اہم حصہ ہے اور یہ تجارت دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اس اہم تجارت کو آسان بنانے اور فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور تہران پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے موجودہ مشکلات دور کرنے، سامان کی ترسیل آسان بنانے اور اقتصادی تعاون مضبوط کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل