Loading
محفلوں میں یہ بحث کئی برس سے جاری ہے کہ موجودہ حکومت کا چل چلاؤ ہے۔ ہر ماہ ایک نئی تاریخ دے دی جاتی ہے، لیکن میاں شہباز شریف کی حکومت نہایت خوش قسمت ہے کہ وہ ان نجومیوں کی پیش گوئیوں سے بچتی چلی آرہی ہے۔ لیکن پھر بھی یہ نجومی اپنی پیش گوئیوں سے باز نہیں آتے۔
ان میں سے تو کچھ واقعی علم نجوم سے تعلق رکھنے والے ہیں لیکن ان کی پیش گوئیاں بڑی محتاط ہوتی ہیں۔ غالباً وہ ایسا بھی ہوسکتا ہے اور ایسا نہیں بھی ہوسکتا کی بنیاد پر پیش گوئی کرتے ہیں لیکن دوسری جانب ہمارے سیاسی نجومی ہیں جن میں سے کچھ تو خاموش ہو چکے ہیں البتہ جو چند ایک رہ گئے ہیں، وہ حکومت جانے کی خبر دیتے رہتے ہیں۔
ان صاحبان میں ہمارے کئی معتبر صحافی و اینکر بھی شامل ہیں۔ سیاستدانوں اور علم نجوم سے تعلق رکھنے والوں کی پیش گوئیوں پر عوام کچھ زیادہ یقین نہیں کرتے لیکن ہمارے چند ایک معتبر اخبار نویسوں اور تجزیہ کاروں کے تجزیوں کو ضرور اہمیت دیتے ہیں۔
بہر حال ہر ایک کی اپنی اپنی خواہشات ہوتی ہیں اور وہ اس کے مطابق حکومت کو دیکھنا چاہتا ہے لیکن مجھے تو یوں لگتا ہے کہ قارئین جمع خاطر رکھیں، ان کی ’ہر دلعزیز‘ حکومت کے جانے کا کوئی اور امکان نہیں ہے۔
حالات سازگار ہیں اور یہ حکومت پکی ہے۔اس حکومت کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ اسمبلی میں اس کی اپوزیشن کو خود اپنے اپوزیشن ہونے پر یقین نہیں ہے اور ابھی تک وہ اپنی واحد صوبائی حکومت کو ختم کرانے کے سواکوئی اور قابل ذکر کام نہیں کر سکی۔ البتہ عوام میں اس حکومت کی زور دار اپوزیشن موجود ہے جس کا کسی حد تک مہنگائی ہے۔
گو کہ صوبہ پنجاب میں محترمہ مریم نواز اپنی بھرپور کوشش سے عوامی فلاح کے منصوبے بنا رہی ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی نظر آرہا ہے لیکن ان کے اقدامات کے عوام پر وہ اثرات مرتب نہیں ہو رہے جو ان کوششوں کا حق تھاکیونکہ وفاقی حکومت عوام کو ریلیف پہنچانے میں پوری طرح کامیاب نظر نہیں آتی ہے۔
چند ایک وزیر کبھی کبھی کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں جو ان نجومیوں کی پیش گوئیوں کو تقویت بخش جاتی ہے ، چونکہ سیاسی بندوبست پکا ہے اور ہائی برڈ نظام فعال ہے، اس لیے ان کو اپنے لوگوں کی باتوں کی بھی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ شاید کسی کونے کھدرے میں یہ خواہش ضرور پنپ رہی ہو کہ شاید وفاقی حکومت خود ہی اپنے لیے مسائل پیدا کرلے اور عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے اپنے پانچ سالہ اقتدار کو مکمل کیا تو عوام نے ان کو کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیے۔ اس حکومت کے پیش رو تحریک انصاف کی حکومت کو چار سالوں میں ہی چلتا کر دیا گیا، اس لیے لامحالہ عوامی ہمدردی ان کے ساتھ ہوئی اور ان کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جو درگت بنائی گئی، اسی درگت نے اسے مقبول کر دیا حالانکہ تحریک انصاف کی حکومت ’شہادت‘ سے پہلے اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ اس کے اپنے منتخب نمائندے کسی اور پارٹی کی تلاش میں تھے کہ اگلا الیکشن کسی اور پارٹی کے ساتھ مل کر لڑا جائے۔
جو ہوا سو ہوا، جمہوریت پسند کہتے ہیں کہ صبر کریں، الیکشن آنے دیں، اپنے ان حکمرانوں سے حساب لیں گے یا اگر ان سے کوئی عوام کی فلاح کا کام سرزد ہو گیا تو انھیں ووٹ بھی دے دیں گے۔ اس میں اگر مگر بھی زیر بحث رہتا ہے۔
ویسے بھی ہم اگر مگر کے سہارے ہی زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری جغرافیائی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہمارے سیاستدان اور مقتدرہ باہمی اتفاق سے ہی حکمرانی کر سکتے ہیں۔ معیشت کا علم تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ عوام کی جیبوں سے پیسے نکلوانے کا آسان ترین طریقہ یہی ہے کہ ان کے روزمرہ کے اخراجات بڑھا دو اور حکومتی خزانہ بھر لو۔
حکومت کے خزانے میں پٹرولیم لیوی سے آمدن ہدف سے بڑھ گئی ہے۔ کمزور عوام بھی منتظر بیٹھے ہیں کہ ان کا بھی تو وقت آئے گا لیکن شاید ان کو معلوم نہیں کہ ان کے ووٹ کے ساتھ کیا سلوک ہو گا ۔
بہر حال نجومیوں کی پیش گوئیاں جاری رہیں گی اور میاں شہباز شریف کی حکومت چلتی رہے گی۔ اپوزیشن کا شور و غوغا بھی جاری رہے گا، اخبار نویسوں کے تجزیے بھی جاری رہیں گے لیکن اس کیفیت میں جیت کس کی ہوگی، اس کا فیصلہ وقت کرے گا اور وقت کا فیصلہ بڑا حیران کن ہوتا ہے۔ تاریخ ضرور لکھی جاتی ہے اور تاریخ لکھی جارہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل