Tuesday, October 27, 2026
 

مکہ دفاعی معاہدہ کی ایران سمٹ

 



مکہ دفاعی معاہدہ کے تینوں رکن ممالک پاکستان، ترکی اور سعودی عرب ایران سے مذاکرات کے لیے تہران گئے ہیں۔ یہ کوئی چھوٹی پیش رفت نہیں ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان ممالک کے اتحاد کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے۔ اگر ایران اور دیگر مسلمان ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایک بڑے مسلم اتحاد کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر تہران میں ہونے والی یہ سمٹ ناکام رہتی ہے تو پھر مسلم اتحاد کئی دہائیوں دور چلا جائے گا۔ اس لیے اس بات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ کیا تہران سمٹ کامیاب ہوئی ہے یا ناکام ہوئی ہے۔ چاروں ممالک کے درمیان کئی گھنٹوں کی مشاورت اور مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس سے کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، سفارتکاری کی سادہ زبان کے مطابق تو جب کسی بات پر اتفاق ہی نہیں ہوا تو مشترکہ اعلامیہ نہیں آیا۔ مشترکہ اعلامیہ تب ہی آتا ہے جب تمام فریقین کسی ایک بات پر متفق ہو جائیں۔ اگلی کسی ملاقات کا بھی طے نہیں ہوا کہ ایسا اگلا اجلاس کب ہوگا؟ کہاں ہوگا؟البتہ یہ ضرور ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق ضرور ہوا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو تہران سمٹ کو نیم دروں نیم بروں کا عنوان دیا جا سکتا ہے۔ یقیناً مکہ دفاعی معاہدہ کے رکن ممالک کے لیے اس وقت سب سے بڑ امسئلہ سعودی عرب کی سیکیورٹی ہے۔ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر تسلسل کے ساتھ حملے سب سے بڑی وجہ ہے۔ تہران میں ہونے والی یہ سمٹ مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کی جانب سے حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے ہی تھی۔ سعودی عرب ، ترکی اور پاکستان بھی اس وقت حوثیوں کے حملے رکوانے اور باب المندب کھلوانے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی پہلی ترجیح ہے۔ لیکن دوسری طرف حوثیوں کے سعودی عرب پر بلیسٹک میزائیل اورڈرون حملے جاری ہیں۔ ان میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔اب اس پیش رفت کو کیا نام دیا جائے۔ اگر حوثیوں والا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو ایران کے ساتھ سعودی عرب اور مکہ دفاعی معاہدہ کے دیگر ارکان کا تعاون آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جیسے ایران کے کے لیے حوثی اہم ہیں، ویسے پاکستان کے لیے سعودی عرب اہم ہے۔ اگرا یران حوثیوں کو نہیں روک سکتا تو پاکستان کو بھی سعودی عرب کے ساتھ کھڑ اہونا ہوگا۔ ترکی کو بھی سعودی عرب کے ساتھ کھڑ اہونا ہوگا۔ ایسے میں یہ دونوں ممالک ایران سے دور ہوتے جائیں گے۔ اس ضمن میں ایران کو سوچنا ہوگا کہ حوثیوں کے لیے وہ ہمسائے ممالک اور بڑے مسلم ممالک کی حمایت کھو سکتا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو حالیہ جنگ میں بھی ایران کے ساتھ ہی کھڑے نظر آئے ہیں۔ مصر بھی سعودی عرب کے ساتھ ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے جاری رہیں اور مسلم ممالک میں اتحاد کی باتیں بھی جاری رہیں۔ دونوں اکٹھے نہیں چل سکتے۔ یہ ممکن نہیں کہ عرب ممالک پر حملوں کی دھمکیاں بھی جاری رہیں اور مسلم اتحاد کی باتیں بھی حقیقت بن جائیں۔ امریکا، ایران جنگ کے پہلے دو مرحلوں میں عرب ممالک نے کافی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران کو جواب نہیں دیا گیا۔ لیکن حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں نے منظر نامہ بدل دیا ہے۔ شاید آبنائے ہر مز کی بندش کو کسی نہ کسی حد تک امریکا ایران جنگ کا رد عمل سمجھ کر قبول کر لیا گیا تھا، لیکن باب المند ب کی بندش نے کافی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اس لیے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جنگ کے پہلے دو مرحلوں میں ایران کو مسلم ممالک کی جو حمایت حاصل تھی،شاید وہ اب نہیں ہے۔ اس لیے جنگ کا اگلا مرحلہ کافی مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ بہت سے دوستوں کی رائے تھی کہ مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کوشامل ہونا چاہیے۔ دوست یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ ایران کی شمولیت کے بغیر خطے کا سیکیورٹی سٹرکچر مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن دوستوں کی رائے اپنی جگہ لیکن ایران کی بھی خواہش نظر آنی چاہیے کہ وہ مکہ دفاعی معاہدہ میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کی بنیادی شرط ہے کہ ایک رکن ملک پر حملہ باقی رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ ایسے میں جب یہ کہاجاتا ہے کہ حوثی ایران کی پراکسی ہے، حوثی ایران کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں تو ایران مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یقیناً ایران کو کم از کم سعودی عرب کو تو یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ سعودی عرب پر حملوں کے خلاف ہے۔ تب ہی ایران کی مکہ دفاعی معاہدے میں شرکت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اس سے پہلے یہ کیسے ممکن ہے۔ ویسے میں سمجھتا ہوں کہ مکہ دفاعی معاہدے کی شرائط میں شامل ہے کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا ۔ ادھر مسلم ممالک کے اپنے اپنے مسائل ہیں، مسلم ممالک کے آپس میں بھی مسائل ہیں۔ ان کی موجودگی میں ایسے اتحاد کو وسعت دیناخاصا مشکل آرہا ہے۔ حوثیوں والے معاملے سے یہ کیسے نبٹتا ہے۔ ادھر امریکا اور ایران جنگ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آپ جتنی مرضی بمباری کر لیں، جب تک زمینی فوج داخل ہوکر ٹیک اوور نہ کرلے مکمل فتح نہیں ہو سکتی۔ سعودی عرب کی ائر فورس جوابی کارروائی تو کررہی ہے۔ لیکن فضائی برتری کو فتح میں بدلنے کے لیے لینڈ فورسز موجود نہیں ہے۔ اس مسئلہ کا ابھی تک کسی کے پاس بھی کوئی حل نہیں۔ لوگ مسلم نیٹو کی بات کرتے ہیں۔ لیکن یورپ اور امریکا نے پہلے آپس کے تمام مسائل حل کیے، ان کی آپس میں کوئی لڑائی نہیں، تب جاکر ہی بیرونی دشمن کے خلاف اتحاد بنا۔ یہاں مسلم ممالک کے آپس کے مسائل ہیں۔ عرب ممالک کے بھی آپس کے مسائل ہیں۔ باقی مسلم ممالک کے بھی آپس کے مسائل ہیں۔ا س لیے مسلم نیٹو ایک نعرہ اور خواب تو ہو سکتا ہے۔ لیکن حقیقت بہت دور ہے۔ پاکستان اور دیگر ملکوں نے اس سے پہلے ایران اور امریکا کے درمیان بھی ثالثی کی کافی کوشش کی ہے۔ لیکن ان میں بھی کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ آج بھی دونوں ممالک جنگ کے قریب کھڑے ہیں۔ پاکستان‘ ایران اور سعودی عرب کے درمیا ن ثالثی کی کوشش کر رہا ہے، کیا یہ کامیا ب ہوگی۔ اس حوالے سے فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ امید کے دیے روشن رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میری رائے میں سفر خاصا پیچیدہ اور مشکل ہے۔ لیکن کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل