Loading
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے یہ جنگ شروع نہیں کی۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی میزائل موجود ہیں، تاہم ان کی تعداد پہلے کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے امریکی ریاست اوہائیو کے شہر چیلیکوتھی میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ اور اپنی حکومت کی کارروائیوں کا دفاع کیا۔ یہ ریلی 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل منعقد ہوئی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائلوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور ڈرون بنانے والی ایرانی صنعت کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کے بقول، بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث ایرانی ڈرون ساز ادارے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں دشواری محسوس کررہے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے جنگ شروع نہیں کی اور یہ تنازع ان کے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے حل ہوجانا چاہیے تھا۔ انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو ضروری قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے، جبکہ اس وقت ایران کے جوہری پروگرام پر عمان کی ثالثی میں مذاکرات جاری تھے۔ یہ دوسرا موقع تھا جب دونوں ممالک نے مذاکرات کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ گزشتہ سال بھی مذاکرات کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل