Loading
آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز مارنس لبوشین جنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ میں ایک بار پھر ناکام ہوگئے جس کے بعد ٹیم میں ان کی جگہ برقرار رہنے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اسٹیو اسمتھ گردن کی انجری کے باعث میچ سے باہر تھے تاہم لبوشین اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور صرف پانچ گیندوں کا سامنا کرکے بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔
What was that from Marnus Labuschagne ???????? ... Gone for duck ????
Hammer gets 2 in one over #SAvsAUS #cricket https://t.co/RYCfW8ksRx pic.twitter.com/iS8M4q6am0
— Lucifer ???? (@LuciferM_04) October 28, 2026
اس ناکامی کے ساتھ لبوشین مسلسل 48 ٹیسٹ اننگز میں سنچری بنانے میں ناکام رہنے والے آسٹریلیا کے پہلے ٹاپ فور کے بلے باز بن گئے جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
Marnus Labuschagne has now gone 48 innings since his last Test hundred in July 2023 - the longest century drought by an Australian top-four batter ???? pic.twitter.com/rUSBIjq5Od
— Cricinfo (@cricinfo) October 28, 2026
سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ اب شاید کسی کھلاڑی کو اتنا طویل موقع نہیں دیا جائے گا۔
لبوشین نے آخری ٹیسٹ سنچری 2023 میں اولڈ ٹریفورڈ کے مقام پر بنائی تھی جبکہ اس کے بعد ان کی اوسط صرف 24.77 رہی ہے۔
From a peak of 63.43 in January 2020, Marnus Labuschagne’s Test batting average has now declined to 42.98 ???? pic.twitter.com/5FN7LPP5On
— Cricinfo (@cricinfo) October 28, 2026
دوسری جانب آسٹریلیا کے نوجوان اور نسبتاً کم تجربہ کار بلے بازوں نے عمدہ کارکردگی دکھا کر ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔
میٹ رینشا نے 74، کیمرون گرین نے 65 رنز بنائے جبکہ جوش انگلس 85 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلس اور ایلکس کیری نے چھٹی وکٹ کے لیے 145 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کی۔
جنوبی افریقا کی پہلی اننگز 329 رنز پر ختم ہوئی تھی جبکہ آسٹریلیا نے جواب میں 330 رنز پر چار وکٹیں گنوا کر ایک رن کی برتری حاصل کرلی۔
سابق کپتان رکی پونٹنگ سمیت کئی ماہرین لبوشین کی تکنیک اور خراب فارم پر تنقید کرچکے ہیں۔
دوسری جانب رینشا، گرین اور انگلس کی کارکردگی نے آسٹریلوی سلیکٹرز کے سامنے نئے انتخاب کے امکانات بھی روشن کردیے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل