Thursday, October 29, 2026
 

پاکستان اور آسیان ممالک کی دوطرفہ تجارت 11 سے 12 ارب ڈالر، ملکی برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر سے بھی کم

 



فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں پاکستان-آسیان بزنس راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف آسیان ممالک کے سفیروں، قونصل جنرلز، تجارتی نمائندوں اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ راؤنڈ ٹیبل سے خطاب میں ثاقب فیاض مگوں نے پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آسیان ممالک کی دوطرفہ تجارت 11 سے 12 ارب ڈالر ہے لیکن پاکستان کی آسیان ممالک کو برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر سے بھی کم ہیں جو انتہائی کم ہے اور اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، ٹیکسٹائل، زراعت، ایگری فوڈ اور حلال صنعت میں تعاون بڑھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان آسیان ممالک کے لیے وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مغربی چین تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہیں، 240 ملین صارفین کا ملک ہے، سی پیک کے تحت اسپیشل اکنامک زونز میں ٹیکس مراعات، لبرل سرمایہ کاری پالیسی موجود ہے۔ مائنز اینڈ منرلز، آئی ٹی، فری لانسنگ، زراعت میں ویلیو ایڈیشن، سیاحت اور گرین انرجی میں مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ایس آئی ایف سی غیرملکی سرمایہ کاروں کو فاسٹ ٹریک پر سہولت دے رہی ہے، کل ایس آئی ایف سی کے ساتھ بہت اہم میٹنگ ہوئی ہے۔ اب ریگولیٹری اور کمپلائنس مسائل ختم کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں سرمایہ کاری بہت آسان ہوگی، غیرملکی سرمایہ کاروں کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں خصوصی فوائد دیں گے، یہ تمام آسیان ممالک کے لیے بڑا موقع ہے، ہم آسیان سرمایہ کاروں کو پاکستان کو پروڈکشن بیس بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ثاقب فیاض مگوں نے تجویز دی کہ ایف پی سی سی آئی اور آسیان چیمبر کے درمیان مشترکہ بزنس فورم قائم کیا جائے، پاکستان کی جانب سے سیکرٹریٹ ایف پی سی سی آئی کے پاس ہوگا۔ پاکستان-آسیان ٹریڈ ایکسپو کراچی میں منعقد کرنے کی تجویز ہے۔ سالانہ بنیادوں پر سیکٹورل ورکنگ گروپس بنانے پر اتفاق، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، ایگری فوڈ، حلال انڈسٹریز اور ایس ایم ایز پر ورکنگ گروپس قائم ہوں گے۔ نوجوان اور خواتین کاروباری افراد کے لیے ایکسچینج پروگرام کی بھی تجویز دی گئی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل