Loading
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کی وجہ سے ہر ایک کی نظریں امریکا کے مِڈ ٹرم انتخابات اور اسرائیل میں عام انتخابات کے حتمی نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔اسرائیل نے اب تک جو بھی جنگ علاقے کے ممالک پر مسلط کی ہے اس میں اس کو امریکا و مغرب کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ابھی تک اسرائیل نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے اسے مغرب اور خاص کر امریکا و برطانیہ کے طفیل ملا ہے۔
اسرائیل نے ایک عرصہ پہلے ایٹمی قوت حاصل کر لی تھی لیکن امریکی چھتری حاصل ہونے کی بدولت اس پر نہ تو پابندیاں لگیں اور نہ ہی کسی نے انگلی اُٹھائی۔اسرائیلی وزیرَ اعظم نتن یاہو بار بار واشنگٹن کا چکر لگاتے ہیں اور امریکی قیادت کو اپنے گھناؤنے جنگی پروگراموں پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ویسے ان کی کوششیں محض ایک دکھاوا ہوتی ہیں کیونکہ امریکا دنیا میں اگر کسی کے شکنجے میں ہے تو وہ اسرائیلی قیادت ہے۔اسرائیلی قیادت جو بھی جنگی و معاشی پروگرام بنائے امریکا جلد یا بدیر اس پر عمل در آمد کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔
ایران کے بارے میں امریکا و اسرائیل کے اہداف میں کچھ اختلاف ہے۔امریکا کے اہداف میں پہلے پہل یہ کہا گیا کہ ایران کو کسی صورت بھی جوہری قوت نہیں بننے دینا۔ انقلابِ ایران سے لے کر اب تک کسی بھی وقت ایران نے جوہری قوت بننے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ ایران کو جوہری قوت بننے سے روکنے کا امریکی ہدف بس اتنا ہے کہ آٹا گوندھتے ہلتی کیوں ہو۔اس ہدف کے بعد کہا گیا کہ ایران میں لوگوں کو انسانی حقوق حاصل نہیں اور ایرانی حکومت سے ایرانی عوام کوچھٹکارا دلانا ضروری ہے۔یہ ہدف بھی گزرتے وقت کے ساتھ آیا گیا ہو گیا۔ایرانی حکومت کو تبدیل کرنا اگلا ہدف ٹھہرا۔ایران پر حملے میں بہت مہلک ہتھیار استعمال ہوئے اور معصوم افراد کی جانیں گئیں۔
حملے کے نتیجے میں ایک نیا ایشو کھڑا ہو گیا۔ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل کی آمدورفت میں رکاوٹ کھڑی کر دی تو باقی اہداف پیچھے رہ گئے اور آبنائے ہرمز کو شپنگ کے لیے کھلا رکھنا نیا ہدف ٹھہرا۔آج کے دن بھی یہ ہدف باقی ہے اور یمن کی مسلح تحریک انصاراﷲ جو عمومی طور پر اپنے قائد کے حوالے سے حوثی ملیشیا کہلاتے ہیں،اس نے سعودی عرب پر حملے شروع کر دئے اور علاقے کی سیکیورٹی داؤ پر لگا دی۔امریکا نے جب اسرائیل کے کہنے پر اس کے ساتھ مل کر جنگ شروع کی تھی تو صدر ٹرمپ کا خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ5دن میں جنگ جیت لے گا لیکن جنگ طویل ہوتی گئی اور کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہوا۔ایک دفعہ جنگ بندی کے بعد دوبارہ شدید حملے کیے گئے لیکن اہداف کے حصول میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔حالانکہ جنگ صدر ٹرمپ نے خود شروع کی تھی لیکن اہداف کے حصول میں ناکامی پر صدر ٹرمپ کو ایران پر شدید غصہ ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ایران نے خواہ مخواہ جنگ کو طول دیا اور صدر ٹرمپ کی صدارت کو از حد نقصان پہنچایا۔ امریکا میں مہنگائی بڑھی جس سے ٹرمپ کی Approval ratingگری اور بہت ممکن ہے کہ ری پبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں بڑا نقصان ہو۔اس وجہ سے صدر ٹرمپ ایران سے انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اور اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں چاہے اس کے لیے کوئی بھی مہلک ہتھیار بشمول نیوکلیئر ٹیکٹیکل ہتھیار ہی کیوں نہ استعمال کرنا پڑے۔
3نومبر2026کو امریکا میں وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔یہ مِڈ ٹرم یا وسط مدتی انتخابات اس لیے کہلاتے ہیں کیونکہ یہ امریکی صدر کی مدتِ صدارت کے عین درمیان میں یعنی دوسال مکمل ہونے پرہوتے ہیں۔اس میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں جب کہ سینیٹ کی 100میں سے 35نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔اس وقت امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔اکثریت کی وجہ سے صدر ٹرمپ کوئی بھی قانون پاس کروا سکتے،من مانی کر سکتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ مواخذے سے بچے ہوئے ہیں۔
اب جب کہ وسط مدتی الیکشن ہونے جا رہے ہیں،جائزہ رپورٹوںکے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت بظاہر آل ٹائم لو یعنی کافی کم ہے۔اس لیے بہت ممکن ہے کہ ری پبلکن پارٹی دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو دے لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔صدر ٹرمپ کے ابھی دو سال پڑے ہیں،ان کی صدارت کو کوئی خطرہ نہیں لیکن ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھو دینے سے ان کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔گرتی مقبولیت، مہنگائی اور ایران کے خلاف جنگ میں اہداف کے حصول میں ناکامی نے امریکی صدر کو خجالت اور شدید غصے میں مبتلا کر رکھا ہے۔وہ جنگ تو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن جنگ جیت میں بدلتی نظر آنے پر۔
جب تک یہ کالم آپ کے پاس ہوگا،اسرائیلی انتخابات کے نتائج آپ کے سامنے آ چکے ہوں گے۔ اسرائیل میں متناسب نمائندگیProportional representationکا نظام رائج ہے۔ ووٹر کسی امیدوار کو ووٹ کرنے کے بجائے پارٹی کو ووٹ کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنے امیدواروں کی فہرست پہلے ہی الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائی ہوتی ہے۔ پارٹی جتنے فیصد ووٹ حاصل کرتی ہے اسی تناسب سے اس کی دی ہوئی فہرست میں سے in order of seniority امیدوار اسرائیلی مقننہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ اسرائیل میں دو ایوانوں کے بجائے صرف ایک ایوان پر مشتمل پارلیمنٹ ہے جسے Kennesetکہا جاتا ہے۔ اسرائیل میں کوئی صوبہ نہیں اس لیے صوبائی اسمبلی بھی نہیں۔کل امیدواروں کی تعداد120 ہے اس لیے جس پارٹی کے پاس 61یا اس سے زیادہ نشستیں ہوں گی وہ پارٹی حکومت بنائے گی۔ایگزٹ پولز کے مطابق اپوزیشن امیدوار جنرل گادی کو برتری حاصل تھی لیکن ابتدائی نتائج کے مطابق نتن یاہو بچ گئے ہیں۔
ان کے اتحاد کو53نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ جائزہ رپورٹوں کے برعکس جنرل گادی نتن یاہو سے پیچھے ہیں۔ البتہ کسی بھی پارٹی کو سادہ اکثریت تک حاصل نہیں ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میرے حمایت کے اعلان نے نتن یاہو کو فائدہ پہنچایا۔ نتن یاہو اسرائیل کے سب سے لمبے عرصے وزیرِ اعظم رہنے والے ہیں۔اگر وہ ہار جاتے تو بہت جلد جیل یاترا کرتے لیکن لگتا ہے کہ اسرائیلی عوام کو ان کی جنگی طبیعت بہت بھاتی ہے۔ویسے اگر جنرل گادی حکومت بنا بھی لیں تو غزہ کے مظلوموں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ مسلمانوں اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے بارے میں جنرل گادی نتن یاہو جیسے ہی یا قدرے برے ہیں۔
جنرل گادی اسرائیل کے سابق آرمی چیف ہیں۔ان سے پہلے اسرائیل کے تین آرمی چیف ریٹائر ہونے کے بعد انتخابات جیت کر حکومت بنا چکے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 17سے زیادہ نشستوں پر مسلمان امیدوار کامیاب ہوں گے لیکن ماضی میں کبھی کسی بھی یہودی رہنما نے مسلمانوں کو حکومت سازی میں شریک نہیں کیا۔ کیا اب وہ ایسا کریں گے ، یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔جہاں خجالت میں مبتلا امریکی صدر ایران کے خلاف جنگ صرف انتقام لینے کے لیے کرنا چاہتے ہیں وہیں نتن یاہو اپنی اور اسرائیل کی نجات مسلمانوں کے خلاف مسلسل جنگ جاری رکھنے اور ایران کو تباہ و برباد کرنے میں سمجھتے ہیں۔
قارئینِ کرام،روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بند ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔یورپ اور صدر زیلنسکی کی مرضی کے خلاف روس کو بڑی رعایتیں ملنے پر کام ہو رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل