Loading
سدھ، بھدر، جکھڑ اور بھاٹی… چار دن کے دورے میں مختلف سلسلوں میں ان چار دیہات میں جانا پڑا۔ یہ تمام دیہات لگ بھگ چار پانچ کلومیٹر کے Radius میں واقع ہیں۔ کھاریاں سے جائیں تو بھدر کے بعد ہم بائیں مڑتے ہیں اور اس سڑک پر کئی چھوٹے بڑے دیہات واقع ہیں۔ جکھڑ گاؤں بر لب سڑک ہے بھاٹی کی طرف جو سڑک مین سڑک سے اندر کو جاتی ہے اس پر نمایاں بورڈ لگا ہوا تھا، ’’ بھاٹی ماڈل ویلج‘‘ ہمارے پاس ویلج کا متبادل اردو لفظ بھی نہیں ہے شاید۔ یہ سڑک سیدھی چلی جائے تو لادیاں سے ہوتی ہوئی، صبور اور پھر کوٹلہ ارب علی کو جاتی ہے۔ اسی پر بائیں ہاتھ کو سدھ گاؤں ہے۔
ان سب دیہات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان کے نوجوانوں کی اکثریت بیرون ملک میں ہے، لگ بھگ اسی فیصد نوجوان ان دیہات سے کبھی نہ کبھی کسی ملک کے لیے نکلے اور پلٹ کر نہیں آئے، گھر والوں کو پہلے اخراجات کے لیے اور پھر تعیشات کے لیے رقوم ملتی گئیں اور ان کے کچے مکان پہلے پکے مکانوں میں ڈھلے، دیہات کے اندرونی محلوں والے مکانات چھوٹے پڑے اور زمینداروں نے زمین داری چھوڑ کر زیادہ تر زمینیں اونے پونے بیچیں اور جو نہیں بیچیں ان پر بڑی بڑی محل نما کوٹھیاں بنا لیں اور چھوٹے گھروں سے نکل کر بڑے گھروں میں رہنے لگے۔ برانڈڈ کپڑے پہننے لگے، روکھے سوکھے کی بجائے مرغن اور باہر سے کھانے لگے۔ باہر سے ان کے بچے جب بھی آتے تو ان کے لیے سویٹر، جوتے اور پرس لانے لگے تو دیہات کی سادگی بھی نمودونمائش کی قبر میں دفن ہو گئی۔
سب کچھ ہوا مگر اندر کا دیہاتی پن ان کے وجود کے بطن سے نکل کرکہیں نہ جا سکا۔ زبان، لہجہ، سوچ، کدورتیں، تنگ نظر، خود غرضی، غیبت، شکوے، ناراضگیاں، ٹوہ لینے کی عادت، چھوٹی چھوٹی باتوں پر چراغ پا ہوجانے اور ایسی ہی ہر طرح کی عادات جو بچپن سے ہوتی ہیں ، انہیں جانے میں شاید ابھی کئی نسلوں کی پیدائش اور وفات کے سلسلے کی ضرورت ہے۔ اب ہر گاؤں اور دیہہ میں اسکول ہیں ، نزدیکی قصبوں میں کالج بھی ہیں اور یونیورسٹیوں کی اس شہر میں موجودگی اور ان کی ٹرانسپورٹ کی وافر سہولت کے باعث کوئی بچی یا بچہ اعلی تعلیم سے محروم نہیں ہے۔ لوگوں کے پاس اپنی ذاتی گاڑیاں بھی ہیں اور جن کے پاس نہیں ہیں ان کی دسترس میں گاؤں کی ان گاڑیوں کی سہولت ہے جو اسی مقصد کے لیے چلتی ہیں۔ بسوں اور ویگنوں میں اب سواریاں اور ہی کم ہو گئی ہیں۔
ان دیہات کے درمیان سے بل کھاتی ہوئی نکلنے والی سڑک پر ہر گاؤں میں لاتعداد دکانیں ہیں، بیکری اور پزا شاپ ہیں، کافی کی بیٹھکیں ہیں اور آئس کریم پارلر بھی۔ اب کسی کے پاس وقت نہیں کہ وہ اڈے پر جا کر، چارپائی پر بیٹھ کر حقہ گڑگڑائے یا گاؤں کے حمام پر جا کراپنی باری کا انتظارکرے، حجامت بنوانے کو نائی کے پاس جائے ۔ اب ان لوگوں کے ہاں بھی دولت کی ریل پیل ہے جو پہلے بڑے چوہدریوں کے پیروں میں پیڑھی رکھ کر بیٹھا کرتے تھے، وہ اب اسی صوفے پر بیٹھتے ہیں جس پر چوہدری صاحب بیٹھے ہوں، دولت نے اس تفریق کو مٹا دیا ہے جو پہلے کم تر اور بر تر ذاتوں کی تفریق تھی، اچھا ہی ہے اللہ نے تو ہمیں ان وجوہات پر درجوں میں نہیں بانٹ کر بھیجا ہے۔
ہاں ایک بات جو ہر گاؤں میں جا کر دل کو بہت کھٹکی، ماسوائے بھاٹی کے کیونکہ وہ ایک ماڈل ویلج ہے، (سدھ بھی نسبتاً بہتر تھا کہ اس کی نسبت بہتر ہے ) کچرے اور گندگی کے ڈھیر، گندگی سے ابلتی ہوئی اور بدبودار نالیوں میں سے کیچڑ سے بھرے ہوئے لفافے جو آنکھ میں نہ سما سکنے والے آنسوؤں کی طرح گلیوں میں نکل آتے ہیں اور راہگیروں کے قدموں سے لپٹ لپٹ جاتے ہیں۔ کسی گاؤں میں آپ کو جانور نظر آئے یا نہ آئے مگر ان جانوروں کے گوبر اور مینگنیں کثرت سے نظر آتے ہیں اور چونکہ دولت جتنی بھی آجائے، گاؤں میں کسی کے ہاں اپنے گھر کے باہر بتی جلانے کا رواج ہے اور نہ اسٹریٹ لائیٹ ہیں تو غالب امکان ہوتا ہے کہ اس اندھیرے میں کوئی نہ کوئی اس غلاظت میں اپنے پاؤں اور جوتے لتھیڑ لیتا ہے ۔
ان دیہات میں سب کچھ آگیا ہے مگر کچھ ان کے بچے نہیں لاسکے تو وہ شعور اور صفائی کا نظام ہے جو ہمارے ہاں کے سوا ، دنیا میں شاید ہر جگہ رائج ہے۔ ہمارے اپنے گاؤں میں جس گھر میں بھی جائیں وہاںکوئی نہ کوئی کھانسی یا زکام میں مبتلا ہوتا ہے، ابھی تو اس طرح کا سردی کا موسم بھی نہیں مگر یہ کھانسی اس دھول ، مٹی اور گندگی کا شاخسانہ ہے جو ان دیہات کا لازم حصہ بن گیا ہے، کبھی ختم ہونے والانہیں ہے۔ ہماری تعلیم، دولت اور تہذیب کس کام کی اگر ہم اپنے ماحول کو صاف نہیں رکھ سکتے ، اپنے صاف جسم، لباس، بال، چہرے اور جوتے تبھی صاف رہ سکتے ہیں اگر ہمارے گھروں سے باہر کا ماحول بھی صاف ہو، ذہنوں میں پراگندگی نہ ہو۔ اگر ہم تعلیم یافتہ ہیں تو اس تعلیم نے ہمارے ذہنوں کو وسعت اور جلا بخشی ہو اور علم تو وہی ہے جو ہماری زندگیوں کا عملی حصہ بن جائے۔
میںنے اب بھی سنا ہے کہ بظاہر مہذب نظر آنے والی خواتین جو اپنے حلیوں سے اب ان دیہات کی لگتی بھی نہیں ہیں، وہ بھی ابھی تک اپنی ملازماؤں سے کہہ کر اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ اپنے پڑوسیوں کے گھر کے سامنے پھینکواتی ہیں اور جب پڑوس والے باہر نکل کرچراغ پا ہو رہے ہوتے ہیںتو وہ اپنے گھر کے اندر سے انھیں سی سی ٹی وی کیمروں میں دیکھ کر محظوظ ہوتی ہیں۔ ان کیمروں سے ان کے پردیس میں رہنے والے باپ، بھائی، شوہر اور بچے اپنے گھر والوں کو دیکھ کر وطن کی چٹکیاں لیتی یادوںکو تسکین دیتے ہیں اور خود کو سمجھاتے ہیں کہ تمہاری دوری سے گھر والے خوش ہیں، انھیں تمہاری نہیں بلکہ تمہارے پیسوں کی ضرورت ہے۔
اگر کسی گاؤں میں ایک ہزار گھر ہے اور اس میں بیس تیس لوگوں کا عملہ صفائی کے لیے بھرتی کیا گیا ہے اور ایک ہزار گھروں کے پانچ چھ ہزار لوگ گندگی پھیلانے کے لیے متعین ہیں تو کیا کام بہتر ہوگا؟ یقینا وہ کام جس پر زیادہ لوگ متعین ہیں۔ آپ کو گلیوں میں اور نالیوں میں سب سے زیادہ پلاسٹک کے لفافے نظر آتے ہیں اور وہ بھی ہلکی کوالٹی کے کہ جن کے استعمال پر بھی پابندی ہے کہ ان کا ناقص مواد کئی طرح کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل