Loading
ایران کی پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جارحیت کی صورت میں جواب کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوگی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان سیکنڈ بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بیان میں سپریم لیڈر اور ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے فوجی کمانڈروں کو دیے گئے اس حکم کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی سطح یا نوعیت کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے بڑھ کر جواب دیا جائے گا۔
بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ دشمن کو بڑا نقصان پہنچانے اور مکمل دفاعی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر عملی دائرہ کار وضع کیا گیا ہے اور پاسداران انقلاب نے نئے اہداف کی نشان دہی اور نئے جغرافیائی علاقوں میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے۔
ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں جبکہ دشمن قوت اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنے اور ایران کو تقسیم کرنے میں ناکامی، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد اب مذاکرات اور ثالثی کی طرف رجوع کر رہی ہے۔
جنرل محبی نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی بحریہ رکھنے اور کئی دہائیوں سے خطے میں فوج کی موجودگی کے باوجود امریکا چند گھنٹوں کے لیے بھی آبنائے ہرمز کو کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کا مقصد پورے خطے میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے اور علاقائی ممالک کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے وعدے پر مبنی تھا لیکن آج یہ اڈے ایران کے ہاتھوں تباہ ہو چکے ہیں اور خطے کے میزبان ممالک کے لیے عدم تحفظ کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کا انٹیلی جنس برتری کا دعویٰ تباہ ہوچکا ہے اور معاشی میدان میں بھی واشنگٹن کو دھچکا پہنچایا اور اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ امریکا ناقابل تسخیر نہیں ہے اور وہ اپنا دفاع کرنے سے بھی قاصر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل