Sunday, November 01, 2026
 

لائل پور سے فیصل آباد تک!

 



پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی کا لائل پور حد درجہ سادہ اور منفرد تھا۔ یا شاید مجھے اپنے بچپن کی وجہ سے شہر کا مکمل ادراک نہیں تھا۔ ہر چند بلکہ بہت سے معاملات ایسے تھے، جنھیں کسی صورت میں رد نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے آبادی حد درجہ کم تھی۔ 1960 میں لائل پور کے کل نفوس چند لاکھ ہوںگے۔ اب تو معاملہ کروڑوں تک پہنچ چکا ہے ۔ لائل پور ہی کیا ملک کا ہر شہر‘ آبادی کے بوجھ تلے دبا ‘ بدحالی کے کیچڑ میں دھنسا ہوا ہے۔ مگر ترقی کے بیانات پڑھ اور سن کر معلوم پڑتا ہے کہ ہم لندن‘ پیرس سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ یہ سب کچھ نظرکا دھوکہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پورا ملک‘ بدامنی‘ جہالت‘ قتل و غارت اور غذائی قلت کا شکار ہے۔ دراصل اگر لوگ اپنا حکمران نہیں چن پائیں گے تو حالت ایسی ہی ہو گی؟ حکمران ملک کو ترقی اورامن کے علاوہ سب کچھ دے سکتے ہیں۔ اب تو یہ دلیل بھی جواب دے چکی ہے کہ ہمارا دشمن ہندوستان بس معدوم ہونے والا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ بھارت کی صرف ایک ریاست‘ مہاراشٹرا کی جی ڈی پی ‘ پانچ سو ساٹھ سے لے کر چھ سو پندرہ بلین ڈالر کے برابر ہے۔2026میں پاکستان کی جی ڈی پی شاید پانچ سو بلین ڈالر کے قریب ہے۔ اب خود ہی فیصلہ فرما دیجیے کہ آزادی کے بعد ترقی کس ملک نے کی ہے۔ ویسے جب ہمارے ہاں نظرنہ آنے والی ترقی اور دل دل پاکستان کے نغمے پیش کیے جاتے ہیں تو انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ خدارا تو ہی بتا دے کہ اس نظارے کو کیسے دیکھا جائے؟ بہر حال نصف صدی سے پہلے کا لائل پور بہت مختلف تھا۔ جناح کالونی کے گھر نمبر 342میں مقیم تھے۔ والدہ گورنمنٹ کالج‘ کارخانہ بازار میں لیکچرار تھیں۔ والد صاحب معروف وکیل تھے۔ یعنی ہم لوگ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے یا شاید نہیں۔ کیونکہ والد صاحب کے پاس ہمیشہ نئے ماڈل کی کار ہوا کرتی تھی۔ پہلی گاڑی شیورلٹ تو آج تک یاد ہے۔ اس لیے نہیں کہ اس میں بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔ بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ گاڑی اسٹارٹ عجیب و غریب طریقے سے ہوتی تھی۔غفار ڈرائیور ‘ ایک ہینڈل کو انجن کے سامنے والے حصے میں رکھ کر زور سے گھماتا تھا۔ تھوڑی سی کوشش سے کار اسٹارٹ ہو جاتی تھی۔ پھر ہینڈل کو احتیاط سے ڈگی میں رکھ دیا جاتا تھا۔ کیونکہ دراصل یہ گاڑی کی چابی تھی۔ اس کے بغیر انجن کو حرکت میں لانے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ اس زمانے میں یہ سوال‘ موجود ہی نہیں تھا کہ کوئی خاندان متوسط درجے پر زندگی گزار رہا ہے۔ یا اس سطح سے اوپر یا نیچے ۔ محلہ میں برابری کا ماحول تھا۔ نمائش کا شائبہ تک نہیں تھا۔ گھر میں کھانا بھی بالکل سادہ سا ہوتا تھا۔ ایک سالن‘ اور رات کو اگر سالن کم پڑ جائے تو سفید چاول ابال لیے جاتے تھے۔ ہر گھر میں تقریباً ایسا ہی تھا۔ اگر کوئی مہمان آ جائے تو سالن کے ساتھ شامی کباب اور پلاؤ بن جاتا تھا۔ یہ اہتمام کی آخری سرحد ہوتی تھی۔ مہمان بھی آرام سے کھانا تناول کر کے شکریہ ادا کر کے خوش و خرم واپس چلا جاتا تھا۔ آج کے دور میں تو مہمان کے آنے کو خاندان کے لیے آزار سا بنا دیا گیا ہے۔ درجنوں کھانے‘ سویٹ ڈش اور پھر چائے یا کافی۔ یہ سب کچھ کیا ہے ؟ طالب علم کی نظر میں تو یہ ایک دکھاوا ہے۔ جس میں اہتمام تو ہے مگر خلوص کی وہ چاشنی نہیں‘ جس سے محبت کی جاگ لگائی جا سکتی ہے۔ معلوم ہونے کے بعد بھی ہم لوگ مصنوعی پن سے کیوں کام لیتے ہیں؟ اس کا جواب کم از کم میرے پاس نہیں ہے۔ ڈویژنل پبلک اسکول میں پڑھتا تھا۔ ملازم‘ محمد علی‘ سائیکل پر اسکول چھوڑنے جاتا تھا۔ بہت بڑی خواہش تھی کہ کاش اپنی سائیکل ہو۔ ساتویں کلاس میں تھا کہ ایک دن والد صاحب ‘ مجھے سائیکلوں کی دکان پر لے گئے۔ کہ بیٹا اپنی پسند کی سائیکل لے لو ۔ میرے لیے یہ ایک خواب کا پورا ہونا تھا۔ شاید سہراب سائیکل لی تھی یا ایگل ۔ بہر حال پاکستانی سائیکل تھی۔ والد صاحب دکاندار کو پیسے دے کر چلے گئے ۔ ڈرتے ڈرتے دکاندار سے پوچھا کہ بائی سائیکل کے ہینڈل پر گھنٹی لگوانی ہے۔ وہ ہنسنے لگا۔ لگ جائے گی۔ جب سائیکل میرے حوالے کی گئی۔ تو لائل پور کے مختلف بازاروں میں گھنٹی بجا بجا کر پیڈل مارتا رہا۔ یقین مانیے ۔ جو مسرت مجھے اپنی ذاتی سائیکل خریدنے میں ہوئی تھی، وہ خوشی‘ اپنی پہلی کار خریدنے میں ہرگز نہیں تھی۔ بلکہ دونوں کا موازنہ کرنا بھی نامناسب سا لگتا ہے۔ جناح کالونی کے آغاز میں ایک گیٹ کی جگہ تھی۔ اس کے دونوں اطراف بڑے بڑے گھر بنے ہوئے تھے۔ ایک کا نام یاد ہے ۔ اسے بٹالہ ہاؤس کہا جاتا تھا۔ اس میں متعدد خاندان مقیم تھے ۔ معلوم نہیں کس کا گھر تھا۔ صرف یہ عرض کرسکتا ہوں کہ کافی وسیع سی بلڈنگ تھی۔ کالونی کے اندر‘ کافی جگہوں پر لومز لگی ہوئی تھیں جو بنیانیں اور دیگر کپڑے بناتی تھیں۔ یہ لائل پور کی وہ کاٹج انڈسٹری تھی جس کی بدولت‘ شہر‘ پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا تھا۔ اب تو خیر مانچسٹر والی بات ختم ہو چکی ہے۔ کپڑے کا کاروبار اگر کم ہو جائے یا خدانخواستہ بند ہو جائے‘ تو صنعت کا فولادی پہیہ‘ پلاسٹک کا کھلونا بن جاتا ہے۔ معیشت دم توڑ دیتی ہے۔ اس وقت ‘ لائل پور ‘ صنعتی لحاظ سے متعدد مشکلات کا شکار ہے۔ اور موجودہ حکومت ‘ اس طرف اتنی توجہ نہیں دے رہی جو اس شہر کا جائز حق ہے۔ لائل پور تو خیر انگریزوں نے آباد کیا تھا۔ مگر جس مقامی ادارے نے جناح کالونی اور دیگر رہائشی علاقوں کی منصوبہ بندی کی تھی وہ بھی کمال ادارے تھے۔ شہر کی بات تو چھوڑیئے۔ صرف جناح کالونی میں وسیع گراؤنڈ موجود تھیں۔ کم از کم ‘ دو تو میرے ذہن پر نقش ہیں۔ ایک چھتری والی گراؤنڈ ‘ جس کے درمیان میں ایک بڑی سی لکڑی کی چھتری بنی ہوئی تھی۔ اور دوسری گراؤنڈ جس میں گھاس کے وسیع میدان اور مختلف روش موجود تھیں۔ جیسے ہی سورج تھوڑا سا ڈھلتا تھا۔ تو ان میدانوں میں بچوں کے کھیلنے کا وقت شروع ہو جاتا تھا۔ فٹ بال‘ کرکٹ اور دیگر کھیل بڑے اہتمام سے کھیلے جاتے تھے۔ یہاں ایک بڑے دلچسپ لڑکے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ اسے کاما پہلوان کہا جاتا تھا۔ وہ تیر کمان چلاتا تھا۔ اکثر کمان گلے میں ڈال کر پھرتا رہتا تھا۔ پہلوان اس لیے کہا جاتا تھا کہ باڈی بلڈر تھا اور پاکستان کی سطح کا تن ساز تھا۔ جسمانی قوت کا اندازہ لگایئے وہ بازوں کے بل‘ سیڑھیوں پر چڑھ سکتا تھا اور قطعاً تھکتا نہیں تھا۔ یہ مظاہرہ کبھی کبھی سینما کی سیڑھیوں پر بھی پیش کرتا تھا۔ لوگ اس کی جسمانی طاقت دیکھ کر دانتوں تلے انگلیاں چبا لیتے تھے۔ یقین فرمائیے کہ ہمارے محلے میں آج کے ارب پتی لوگوں کے خاندان رہتے تھے۔ ابھی ترقی کے زینے پر قدم رکھ رہے تھے ۔ مگر بہر حال‘ امیر ہونے کا آغاز ضرور تھا۔ مگر ان میں سے اکثریت ‘ تانگہ پر گھر واپس آتی تھی۔ سالم تانگہ کی بابت بات نہیں کر رہا۔سواریوں والے تانگے کا ذکر ہے اور اس سادگی یا کفایت شعاری پر کسی کو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پورا ماحول یکسر سادہ بلکہ بغیر بناوٹ کے تھا۔ چوک میں ٹھنڈی بوتلوں کی دکان تھی جس میں برف میں لگی ہوئی سافٹ ڈرنک کی بوتلیں ملتی تھیں۔ اگر درست یاد ہے تو ایک بوتل کا دام‘ چار آنے یا آٹھ آنے ہوتا تھا۔ مہمانوں کے لیے ‘ بوتلیں لانا بچوں کی ذمے داری تھی۔ اگر تین مہمان ہوتے تو اکثر بچے ایک بوتل زیادہ لیتے اور وہ راستے میں ہی ختم ہو جاتی۔ مگر دکان دار کی وضع داری ملاحظہ فرمایئے کہ اس نے کبھی ہمارے والدین کو اس معصومانہ حرکت کا پتہ نہیں چلنے دیا تھا۔ اسے چوری کہنا تو مناسب نہیں ہو گا۔ شرارت ذرا مناسب لفظ ہے۔ ایک دن محلے میں بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا۔ میں بیٹسمین کے پیچھے بال کو کیچ کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا۔شاہد کے ہاتھ میں بیٹ تھا۔ اس نے زور سے گھمایا تو سیدھا میرے چہرے پر لگا اور میں زمین پر گر گیا۔ اس دن سے لے کر آج تک ‘ کرکٹ نہیں کھیلی۔ بلکہ دیکھی تک نہیں۔ اب تو کرکٹ کی الف ب بھی معلوم نہیں۔ ہاں ‘ تیراکی ضرور آتی ہے ۔ جو لائل پور کی زرعی یونیورسٹی کے سوئمنگ پول سے شروع کی تھی۔ آج بھی ہفتے میں کم از کم چار پانچ بار کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سب کچھ تو لکھنا شاید ممکن نہیں ہے۔ آج کے فیصل آباد کا تو کوئی پتہ نہیں۔ بلکہ سچ پوچھیے‘ تو کوئی رغبت بھی نہیں ہے۔ یا بہت ہی کم ہے۔ مگر ماضی میں لائل پور جب تک فیصل آباد نہیں بنا تھا۔ تب تک تو بڑا خوبصورت چھوٹا سا شہر تھا۔ مگر وہ تو ماضی تھا ۔ اب تو لائل پور وقت کی گرد میں کہیں گم سا ہو گیا ہے۔ جہاں اسے پہنچانا تک ناممکن ہے۔ شاید ضرورت بھی نہیں ہے۔اسے ہی وقت کا تسلسل کہتے ہیں!

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل