Wednesday, November 04, 2026
 

وزارت خارجہ میں کروڑوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

 



قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں وزارت خارجہ میں مالی سال24-2023 کے دوران  کروڑوں روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے اور اجلاس میں آسٹریا اور بلغاریہ میں پاکستانی سفارت خانوں کے اکاؤنٹنٹس کی جانب سے کروڑوں روپے کی مبینہ خورد برد کے معاملات بھی زیر غور آئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ آسٹریا میں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹنٹ سلمان قریشی نے مبینہ طور پر 16 کروڑ 56 لاکھ روپے کی خرد برد کی اور رقم اپنے اور اپنی اہلیہ کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ حکام کے مطابق معاملہ وفاقی تحقیقاتی دارہ (ایف آئی اے) کو بھجوایا گیا تھا اور اب تک دو ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں اور ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم وہ ضمانت پر رہا ہو چکا ہے۔ چیئرمین پی اے سی نوید قمر نے کہا کہ 6 سال گزرنے کے باوجود اب تک صرف ایف آئی آرز ہی درج ہوئی ہیں، ایف آئی اے کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے، لگتا ہے ایف آئی اے صرف سیاسی مقدمات دیکھتی ہے۔ سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار نے بتایا کہ آسٹریا میں خورد برد میں ملوث شخص کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا اور وزارت خارجہ نے آڈٹ کی نشان دہی سے قبل ہی ملزم کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا تھا، خرد برد کی گئی رقم ایک لاکھ 70 ہزار یورو تھی۔ کمیٹی نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے سیکریٹری خارجہ کو دوبارہ انکوائری کرنے اور ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی اور ایف آئی اے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ پی اے سی ارکان نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی مالی بے ضابطگی میں صرف اکاؤنٹنٹ اکیلا کیسے ملوث ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں بلغاریہ میں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹنٹ کی جانب سے مبینہ طور پر 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کی خرد برد کا معاملہ بھی سامنے آیا، آڈٹ حکام کے مطابق تحقیقات کے لیے 10 ستمبر 2026 کو انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاہم کفایت شعاری اقدامات کے باعث کمیٹی اب تک بیرون ملک نہیں جا سکی۔ حکام نے بتایا کہ اکاؤنٹنٹ نے ابتدائی طور پر الزام تسلیم کیا تھا تاہم ملازمت سے برطرفی کے بعد عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنا بیان تبدیل کر لیا اور عدالت کے حکم پر ملزم کو ملازمت پر بحال کر دیا گیا۔ پی اے سی نے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقاتی مقاصد کے لیے انکوائری کمیٹی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی سفارش کی۔ اجلاس میں وزارت خارجہ کے مختلف آڈٹ پیراز پر حکام کی لاعلمی بھی سامنے آئی، ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سسپنس اکاؤنٹ کے بینک اور ابوظہبی میں کمیونٹی اسکول کی ملکیت سے متعلق سوالات پر وزارت خارجہ کے افسران تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ ابوظہبی میں نجی ملکیت کے کمیونٹی اسکول کو سفارت خانے کے کمیونٹی ویلفیئر فنڈ سے کروڑوں روپے ادا کیے گئے۔ چیئرمین پی اے سی نوید قمر نے سیکریٹری خارجہ سے استفسار کیا کہ کیا وہ اپنے افسران کے جوابات سے مطمئن ہیں، اس پر سیکریٹری خارجہ نے اعتراف کیا کہ وہ مطمئن نہیں ہیں۔ اجلاس میں برلن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اسکالرشپ فنڈ سے 10 کروڑ روپے قرض لینے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، آڈٹ حکام نے بتایا یہ رقم تین سال گزرنے کے باوجود ایچ ای سی کو واپس نہیں کی گئی۔ سیکریٹری خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کی فراہمی میں تاخیر کے باعث ایچ ای سی کے اکاؤنٹ سے رقم حاصل کی گئی تھی، جس پر چیئرمین پی اے سی نوید قمر نے سوال کیا کہ وزارت خارجہ کو ایچ ای سی کا فنڈ استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی، یہ تو ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت خارجہ کے مالی نظم و نسق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح قواعد و ضوابط تشکیل دیے جائیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل