Loading
شہر قائد میں شارع فیصل کالونی گیٹ کے قریب فائرنگ سے شاہین فورس کے زخمی اہلکاروں کو اپنی گاڑی میں اسپتال لیجانے والے شہری کا بیان سامنے آگیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ وہ ایئر پورٹ پر اپنی فیملی کو چھوڑ کر جا رہا تھا کہ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو سڑک پر گرا ہوا دیکھا جس پر انھوں ںے گاڑی روک کر ریورس کی اس دوران 2 ڈاکو موٹر سائیکل پر فرار ہوتے ہوئے دکھائی دیئے۔
ڈرائیور نے کہا کہ ان کا پیچھا کرتے ہیں لیکن میں نے کہا کہ نہیں یہ پولیس کے زخمی جوان ہیں انھیں ریسکیو کرتے ہیں اور اپنے ڈالے میں پولیس کے جوانوں کو ریسکیو کیا اور ٹریفک پولیس کو بھی بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔
شہری نے آئی جی سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سپاہیوں کا اسلحہ کیوں نہیں چلا ، ان کی گولیاں چمبر میں پھنس گئیں۔
ایمونیشن انچارج کون تھا ، شاہین فورس کے جوان دن رات عوام کی خدمت کرتے ہیں ، اس بات کی محکمہ جاتی انکوائری ہونا چاہیے۔
شاہین فورس ہو یا کوئی اور پولیس ان کے پاس جدید اسلحہ ہونا چاہیے جو اپنی جانوں پر کھیلتے ہیں ، جو بچہ شہید ہوا ان کے ماں ، باپ ، بہن اور بھائی کا کیا ہوگا ، باقی جو سپاہی ہیں ان کے پاس کون سے سن کا اسلحہ دیا ہوا ہے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل