Wednesday, January 07, 2026
 

وینزویلا میں امریکی شب خون

 



تاریخ اپنے آپ کو دہرا نہیں رہی بلکہ شاید اب ’’تیل‘‘ کی بو پر لکھی جا رہی ہے۔ 3 جنوری 2026 کی صبح جب دنیا ابھی نئے سال کی خوشیوں میں مگن تھی، جنوبی امریکا کے ملک وینزویلا کے افق پر امریکی طیاروں کی گھن گرج نے ایک نئے ارضی سیاسی زلزلے کی نوید سنائی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلان نے نہ صرف دارالحکومت کراکاس کی گلیوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ بین الاقوامی قانون کے ان تمام ضابطوں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے جن کا پرچار دہائیوں سے کیا جا رہا تھا۔ امریکی افواج نے ایک برق رفتار فوجی آپریشن کے ذریعے نہ صرف وینزویلا کے دارالحکومت پر بمباری کی، بلکہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کردیا۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایک ’’منشیات فروش دہشت گرد‘‘ کے خلاف تھی۔ لیکن صدر ٹرمپ کے اس بیان نے اصل کہانی واضح کردی ہے کہ ’’اب امریکا وینزویلا کے انتظامات چلائے گا‘‘ اور امریکی تیل کمپنیاں وہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گی۔ وینزویلا اور امریکا کے تعلقات کی تاریخ نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کے بیشتر حصے میں دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری رہی، جہاں وینزویلا امریکا کو تیل فراہم کرنے والا ایک اہم ملک اور خطے میں اشتراکیت کے خلاف ایک مضبوط اتحادی تھا۔  1990 کی دہائی کے اواخر اور 2000 کے شروع میں، امریکا یہاں سے روزانہ 15 لاکھ سے 20 لاکھ بیرل خام تیل خریدتا تھا۔ وینزویلا کا تیل ’’بھاری‘‘ ہوتا ہے اور امریکی ریفائنریاں خاص طور پر اسی قسم کے تیل کو صاف کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں، اس لیے یہ تجارت دونوں کے لیے نہایت اہم تھی۔ تاہم، 1999 میں ہیوگو شاویز کے برسرِ اقتدار آنے سے اس رشتے میں دراڑیں آنا شروع ہوئیں۔ شاویز نے ’’بولیوین انقلاب‘‘ کے تحت امریکا مخالف خارجہ پالیسی اپنائی اور تیل کے وسائل کو قومی ملکیت میں لے لیا، جس سے امریکی مفادات کو شدید ٹھیس پہنچی۔ 2013 میں نکولس مادورو کے صدر بننے کے بعد یہ تعلقات دشمنی میں بدل گئے۔ امریکا نے مادورو حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تیل کی صنعت پر سخت ترین پابندیاں عائد کردیں تاکہ حکومت کو معاشی طور پر مفلوج کیا جاسکے۔ 2018 تک درآمدات کم ہو کر 5 لاکھ بیرل رہ گئیں اور 2019 کی پابندیوں کے بعد یہ تجارت تقریباً ختم ہوگئی۔ اگرچہ 2023 اور 2024 میں امریکی کمپنی ’شیورون‘ کو محدود پیمانے پر تیل نکالنے کی اجازت دی گئی، لیکن جنوری 2026 کے فوجی آپریشن نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب امریکا نے وینزویلا کے ساحلوں کی مکمل ناکہ بندی کردی ہے اور وہ وہاں کے تیل کے شعبے پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے اپنی کمپنیوں کے ذریعے اسے دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم کی جاسکیں۔ امریکا کا موقف ہے کہ مادورو حکومت منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھی اور ان پر 50 ملین ڈالر کا انعام اس کارروائی کا قانونی جواز ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی خودمختار ملک کے سربراہ کو اس طرح گرفتار کرنا بین الاقوامی سفارتی آداب اور خود مختاری کے منافی نہیں؟ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، اور عالمی توانائی کی منڈی کے اتار چڑھاؤ نے واشنگٹن کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ ’جمہوریت کی بحالی‘ کے پردے میں ان وسائل تک براہ راست رسائی حاصل کرے۔ یہ کوئی اچانک ہوا واقعہ نہیں تھا۔ 2025 سے جاری بحری ناکہ بندی اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ روس، فرانس، کیوبا اور میکسیکو جیسے ممالک نے اسے ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دے کر مذمت کی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ فی الحال طاقت کا پلڑا یکطرفہ طور پر امریکا کے حق میں ہے۔ اقوام متحدہ کی تشویش بھی روایتی بیان بازی سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتی۔ وینزویلا کا موجودہ منظرنامہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وہ ممالک جن کے پاس قدرتی وسائل تو ہیں لیکن وہ داخلی طور پر کمزور ہوں، وہ ہمیشہ نشانے پر رہتے ہیں۔ آج مادورو نیویارک کی کسی عدالت میں کٹہرے میں کھڑے ہوں گے، لیکن تاریخ کے کٹہرے میں یہ سوال ہمیشہ رہے گا کہ کیا یہ عالمی امن کی کوشش تھی یا محض تیل کے کنوؤں پر قبضے کی ایک جدید مہم؟ اگر ریاستیں اپنے عوام کو خوشحال اور متحد نہ رکھ سکیں، تو بیرونی طاقتیں ’منتقلی‘ کے نام پر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے میں دیر نہیں لگاتیں۔   نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل