Loading
دورحاضر میں بہت سی مائیں کام، گھریلو ذمے داریوں اور دیگر مصروفیات کے درمیان توازن قائم کرنے کےلیے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کےلیے گھر پر ملازمہ رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا، کیونکہ ہر ماں چاہتی ہے کہ اس کا بچہ محفوظ، خوش اور ذہنی و جذباتی طور پر مضبوط ہو۔
زندگی کی رفتار اور وقت کی قلت نے والدین کو مجبور کردیا ہے کہ وہ بچوں کی پرورش میں دوسروں کی مدد بھی حاصل کریں، اور اکثر گھر کی ملازمہ اس ذمے داری میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔
گھر پر ملازمہ رکھنے کے کئی فوائد ہیں جو اکثر والدین کو یہ سہولت اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سب سے پہلے، بچہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے محفوظ اور مانوس ماحول میں ہوتا ہے۔ گھر کی مانوسیت اور سکون بچے کے لیے ذہنی سکون کا باعث بنتی ہیں، اور اس سے وہ والدین سے علیحدگی کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سہہ پاتا ہے۔ ملازمہ بچے کو ذاتی توجہ دیتی ہے، جس سے وہ اپنے روزمرہ کے معمولات، کھانے، صفائی اور چھوٹی چھوٹی تربیتی عادات بہتر طریقے سے سیکھتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف بچے کی شخصیت کے لیے مفید ہے بلکہ والدین کے لیے بھی آسانی پیدا کرتی ہے، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کا بچہ محفوظ اور مناسب دیکھ بھال میں ہے۔
گھر پر ملازمہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بچے کے لیے ایک مستقل سہارا بنتی ہے۔ اگر بچہ بیمار ہو جائے تو اسے گھر کے آرام دہ ماحول میں بہتر نگہداشت ملتی ہے، جس کا اثر اس کی صحت اور سکون پر فوری طور پر پڑتا ہے۔ ساتھ ہی، ملازمہ بچے کو نظم و ضبط، صفائی، اور روزمرہ کی عادات سکھاتی ہے، جو بعد میں اس کی شخصیت اور رویے کی بنیاد بنتی ہیں۔
لیکن ہر سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں، اور گھر پر ملازمہ رکھنے کے بھی کچھ نقصانات ہیں۔ بعض اوقات بچے زیادہ تر وقت ملازمہ کے ساتھ گزارتے ہیں، جس سے والدین کے ساتھ جذباتی تعلق کمزور ہو سکتا ہے۔ بچے ملازمہ کے رویے اور عادات کو بھی سیکھ سکتے ہیں، اور اگر یہ عادات والدین کی تربیت کے مطابق نہ ہوں تو مستقبل میں رویے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بچے کی روزمرہ زندگی اور عادات زیادہ تر ملازمہ پر انحصار کرنے لگتی ہیں، جس سے والدین کا اثر کم ہو سکتا ہے۔ والدین کے ساتھ وقت کی کمی بچے کی جذباتی اور اخلاقی نشوونما پر اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ والدین کے ساتھ گزارے گئے لمحات بچے کے لیے سب سے قیمتی ہوتے ہیں۔
اس لیے والدین کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملازمہ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں۔ اس کے تجربے، تربیت اور اعتماد کو مدنظر رکھنا بچے کی دیکھ بھال اور نشوونما کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کے ساتھ روزانہ کچھ وقت ضرور گزاریں، چاہے چند گھنٹے ہی کیوں نہ ہوں، تاکہ بچے کو والدین کی محبت اور رہنمائی کا احساس ہو۔ ملازمہ کے ساتھ مل کر بچے کی تربیت کے اصول مرتب کرنے چاہئیں تاکہ بچے کی عادات اور رویے والدین کی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کے جذبات اور ردعمل پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ والدین اور بچے کا تعلق مضبوط اور محبت بھرا رہے۔
گھر پر ملازمہ رکھنے کا فیصلہ موجودہ دور میں ماؤں کے لیے ایک ضروری سہولت بن چکا ہے۔ اگر یہ فیصلہ دانشمندی، مناسب رہنمائی اور والدین کی فعال شرکت کے ساتھ کیا جائے تو بچے کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما پر نہایت مثبت اثر پڑتا ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ملازمہ بچے کی پرورش میں مددگار تو ہو سکتی ہے، مگر والدین کی محبت، رہنمائی اور وقت کے بغیر یہ اثر مکمل نہیں ہوتا۔ بچے کے لیے سب سے اہم چیز وہ والدین ہیں جو اس کی زندگی میں رہنمائی، محبت اور وقت فراہم کریں۔ یہی چیز بچے کی شخصیت، اعتماد اور خوشی کی بنیاد بنتی ہے۔
گھریلو ملازمین بچوں کی دیکھ بھال تو کر لیتے ہیں لیکن وہ بچوں کو ماں کی ممتا تو نہیں دے سکتے، ان کا ماں کی طرح خیال نہیں رکھ سکتے ، بچوں کی اخلاقی تربیت ماں کے سوا کوئی بھی بہتر نہیں کر سکتا کیونکہ ماں کی گود بچے کی سب سے پہلی اور بہترین درسگاہ ہوتی ہے ۔ مان لیا کہ آج کل کی مائیں بہت مصروف ہوتی ہیں لیکن جب بچوں کو ملازمین پر ہی چھوڑ دیا جائے تو بچوں کے دل میں بھی والدین کی محبت قائم نہیں رہتی اور وہ میڈ کو ہی اپنی ماں کا درجہ دینے لگتے ہیں۔
جب ماں اپنے بچے کےلیے خود کھانا اور ناشتہ بناتی ہے تو محبت اور خلوص کے ایک تعلق کی ابتدا ہوتی ہے بچہ ماں سے قریب تر ہوتا ہے اور یہ جان جاتا ہے کہ میری ماں میرے لیے اہمیت رکھتی ہے اور میں ماں کے لیے اہم ہوں۔ بچے کے لیے چھوٹے چھوٹے کام ماں کو خود کرنے چاہیں اسے احساس دلانا چاہیے کہ آپ اس کے لیے ہمہ وقت موجود ہیں۔
اگر آپ کے گھر پر بچوں کو سنبھالنے کے لیے ملازمہ بھی ہو تب بھی بچوں کی ذمے داری آپ کی ہے، ان کی اچھی پرورش، اچھی اسکولنگ اور کھانا پینا سب ماں کی ذمے داری ہے لہٰذا اپنے بچوں کو وقت دیں ان سے باتیں کریں ان کے لیے زندگی آسان بنائیں تاکہ بڑے ہو کر وہ کسی محرومی کا شکارنہ ہوں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل