Friday, July 19, 2024
 

ملازمین سے ناروا سلوک پر برطانیہ کی امیر ترین بھارتی فیملی کو قید کی سزا

 



جنیوا: سوئس عدالت نے برطانیہ کے امیر ترین بھارتی خاندان کو گھریلو ملازمین سے ناروا سلوک پر قید کی سزا سنادی۔

فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سوئٹزر لینڈ کی عدالت نے ہندوجا خاندان کو انسانی اسمگلنگ کے الزامات سے بری کر دیا ہے تاہم گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک پر سزا سنادی گئی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق پرکاش ہندوجا اور ان کی اہلیہ کمال ہندوجا کو چار سال چھ ماہ جبکہ ان کے بیٹے اجے اور ان کی اہلیہ نمریتا کو چار سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ہندوجا فیملی پر الزام تھا کہ وہ اپنے آبائی ملک بھارت سے تین افراد کو بطور گھریلو ملازم اپنے جنیوا میں موجود عالیشان مینشن لائے اور سوئٹزرلینڈ پہنچنے پر ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے۔

وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ہندوجا فیملی اپنے ملازمین کو انتہائی کم تنخواہ دیتی تھی اور انہیں گھر سے باہر جانے کی آزادی نہیں تھی۔

استغاثہ کے مطابق ملازمین کو 18 گھنٹے کام کرنے کے لیے 8 ڈالر سے بھی سے کم ادائیگی کی گئی جو سوئس قانون کے تحت درکار رقم کے دسویں حصے سے بھی کم ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے الزام لگایا کہ ہندوجا خاندان نے اپنے نوکروں سے زیادہ اپنے کتوں پر خرچ کیا۔

واضح رہے کہ 47 ارب ڈالر کی مالیت رکھنے والے ہندوجا گروپ کے تیل، گیس، بینکنگ اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ساتھ 38 ممالک میں دفاتر موجود ہیں جہاں تقریباً دو لاکھ افراد ان کے لیے کام کرتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل