Loading
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مغربی ممالک سنجیدگی اور خیرسگالی کا مظاہرہ کریں تو تہران جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس کو ایک خط میں تحریر کیا ہے کہ مذاکرات کی بحالی اس وقت ممکن ہوگی جب تمام فریقین سنجیدگی دکھائیں اور ایسے اقدامات نہ کریں جو بات چیت کے عمل کو متاثر کرسکیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر دوبارہ اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد کرنے کے باضابطہ عمل کا آغاز کیا ہے۔ یورپی ممالک نے سلامتی کونسل کو خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی اور وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ تینوں ملکوں کے مطابق وہ "اسنیپ بیک میکنزم" کو فعال کر رہے ہیں، جس کے تحت ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں آئندہ 30 روز میں دوبارہ نافذ ہو سکتی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل