Loading
وینز ویلا کے صدر کو گرفتار کرکے امریکا لانے کے بعد پاکستان کا سوشل میڈیا بھی عجیب طرح کی خبریں پھیلا رہا ہے۔ ویسے تو پاکستان کا وینیز ویلا کے معاملے سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کبھی کوئی رابطہ نہیں رہا۔ کوئی تجارتی تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستان نے وینز ویلا سے کبھی تیل نہیں خریدا۔ ہمارا اس معاملہ سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ لیکن ’’دوست‘‘ اس بات پر بضد ہیں کہ پاکستان کو وینز ویلا کے معاملے سے جوڑ کر یہ ثابت کیا جائے کہ پاکستان بڑی مشکل میں ہے۔ ’’دوستوں‘‘ کی رائے کہ وینز ویلا دراصل امریکا اور چین کی لڑائی ہے۔یہ بات درست ہے کہ یہ امریکا اور چین کی لڑائی ہے۔
چین وینز ویلا سے سستا تیل خریدتا ہے۔ چین کا وینز ویلا میں کافی اثر ہے۔ چین نے وینز ویلا کی موجودہ حکومت کو قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ وینز ویلا چین کے ساٹھ ارب ڈالر کا مقروض ہے۔ اس لیے وہاں چین کا غیر معمولی اثر و رسوخ ہے۔ یہ بات امریکا کو قبول نہیںتھی۔ اسی لیے امریکا وینیز ویلا کے صدر اور ان کی حکومت کے خلاف تھا۔ جیسے روس کو یوکرین میں نیٹو قبول نہیں۔ ویسے ہی امریکا کو اپنے ہمسائے میں چینی اثر ورسوخ قبول نہیں۔امریکا وینز ویلاکو چینی بیس کیمپ نہیں بننے دینا چاہتا ، اس بات کو سمجھیں۔ وینز ویلا کو ئی غیر جانبدار نہیں ہے۔ وہ امریکا مخالف تھا لیکن چین کا حامی تھا۔
لوگ کہتے ہیں وینز ویلا کا تیل امریکا کو وہاں لے گیا۔ میں اس بات سے مکمل متفق نہیں۔ اصل مسئلہ تیل نہیں۔ اب تو امریکا کے پاس اپنا بھی تیل ہے۔ مسئلہ ڈالر کا ہے۔ مسئلہ ڈالر کی حاکمیت کا ہے۔ وینز ویلا ڈالر میں تیل نہیں بیچ رہا تھا۔ وہ چین سے چینی کرنسی اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی ڈالر کے بغیر تجارت کا حامی تھا۔ امریکا کو یہ کسی بھی صورت قبول نہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ تیل کی صرف ڈالر میں خرید و فروخت ہو۔ ایسا کوئی بھی ملک جو ڈالر کو چیلنج کرتا ہے، امریکا اس کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ وینز ویلا کے معاملے کو اس تناظر سے بھی دیکھیں۔ چین مسلسل ڈالر کو چیلنج کر رہا ہے اور امریکا اس چیلنج سے نبٹ رہا ہے۔
اب وینز ویلا میں امریکا اور چین کی لڑائی سے بھی پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان کے نہ تو اس معاملہ پر چین سے تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا نہ ہی امریکا سے تعلقا ت پر کوئی اثر پڑے گا۔ پاکستان نے محتاط رد عمل دیا ہے۔ درست کیا ہے۔ چین کو علم ہے کہ ہمارے بیان سے کوئی فرق نہیں پڑنا۔ اگر چین خود وینز والا کی حفاظت نہیں کر سکا تو پاکستان سے اس کو کیا توقع ہے۔ ہم اس معاملے میں فریق نہیں ہیں۔ اس لیے ہم کسی مشکل میں نہیں۔ چین اور امریکا دنیا میں کہیں بھی لڑیں تو ہم مشکل میں نہیں ہوںگے۔ ہم چین کی عالمی سطح کے مفادات اور سیاست میں فریق نہیں۔ نہ ہی چین ہم سے پوچھ کر عالمی سیاست کرتا ہے۔ ہمارے چین کے ساتھ تعلقا ت باہمی ہیں۔ اور با ہمی تعلقات باہمی مفادا ت تک ہی ہیں۔
اسی طرح ’’دوستوں‘‘ کی رائے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی سے بھی پاکستان مشکل میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ موقف بھی درست نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بھی عالمی مفاد کی لڑائی ہے۔ ہم ان عالمی مفادات میں کسی کے ساتھ بھی فریق نہیں۔یمن میں بھی پاکستا ن فریق نہیں۔ ہم سعودی عرب کے ساتھ یمن میں کسی جنگ میں شریک نہیں۔ ہم نے بہت پہلے یمن میں فوج بھیجنے سے انکا رکر دیا تھا۔ ہم متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی یمن میں فریق نہیں۔ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے۔ لیکن متحدہ عرب امارات کوئی سعودی عرب پر حملہ نہیں کر رہا ۔ اگر متحدہ عرب امارات سعودی عرب پر حملہ کرے تو ہم سعودی عرب کا دفاع کریں گے۔ اگر سعودی عرب کوئی جارحیت کرتا ہے تو یہ اس کا انفرادی فعل ہے۔ دفاعی معاہدے ایسے ہی ہوتے ہیں۔
اسی طرح سوڈان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات کی لڑائی میں بھی پاکستان فریق نہیں۔ ہمارا وہاں کوئی مفاد نہیں۔ہم دونوں ممالک کے درمیان کہیں بھی فریق نہیں۔ یہاں بھی بات سمجھیں دونوں ملک عالمی سطح پر جو بھی کر رہے ہیں ہم اس میں فریق نہیں۔ ممالک کے درمیان مفاد باہمی ہوتا ہے۔ عالمی مفاد اکٹھا ہونے کے لیے ایک وسیع اتحاد درکار ہوتا ہے، جو موجود نہیں ہے۔ ایسا تو عرب ممالک کا آپس میں بھی اتحاد نہیں ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی مشکل میں ہے۔ جب دونوں ملک سوڈان سے مالی مفاد لیتے ہیں تو پاکستان کو حصہ تو نہیں دیتے تو ہم فریق کیسے۔ ہم مشکل میں کیسے ہیں، عالمی مفاد اپنے اپنے ہیں۔
آپ دیکھیں پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کے بعد سعودی عرب اور بھارت کے تعلقات خراب نہیں ہوئے ہیں، دونوں کے درمیان تعلقات ویسے ہی چل رہے ہیں۔ تجارت بھی ہے، تیل کی خریدو فروخت بھی ہے۔ یہ مثال اس لیے دے رہا ہوں کہ اگر پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ سے سعودی عرب بھارت تعلقات خراب نہیں ہوئے۔ تو پاکستان کے کیوں خراب ہوںگے۔ ممالک کے آپس میں تعلقات ہوتے ہیں، ہمارے بھی ہیں۔
آپ ترکی کو دیکھیں۔ پاکستان اور ترکی کے آپس میں بہترین تعلقات ہیں۔ لیکن افغانستان پر پاکستان اور ترکی کی پالیسی میں فرق ہے۔ وہاں ترکی کے اپنے مفادات ہیں۔ ہم ترکی سے تعلقات اس لیے خراب نہیں کریں گے کہ وہ افغانستان پر ہمارے ساتھ نہیں۔ اسی طرح چین کے بھی کئی ایسے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات ہیں جہاں پاکستان کے نہیں۔ ہر ملک آزاد ہے۔ اس لیے پالیسیاں بھی آزاد ہیں۔ جہاں ہم فریق نہیں وہاں ہم پر کوئی دباؤ نہیں۔ ایران کی مثال بھی سامنے ہے۔ ہمارے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ لیکن ہم ایران کے ساتھ فریق نہیں ہیں۔ ہم ایران اور امریکا کے درمیان فریق نہیں۔ اس لیے ہم مشکل میں نہیں ہیں کیونکہ ہم فریق نہیں۔ عالمی سیاست میں ہر ملک کی اپنی ترجیحات ہیں۔ کوئی کسی کے لیے نہ لڑتا ہے نہ مرتا ہے، مفاد کی دوستیاں ہیں۔ ساتھ جینے مرنے کی کوئی قسمیں وعدے نہیں ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل