Loading
جاوید اختر نے مناظرے میں خدا کے وجود پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا خدا ہے جس کے ہوتے ہوئے غزہ میں معصوم بچے ہلاک ہوگئے ، اس نے اتنا بڑا ظلم ہوتے ہوئے دیکھا مگر اس ظلم کو روکا نہیں۔ دوسری جانب بھی بھارت کا ایک مسلمان بیٹھا تھا جو اپنی مجبوریوں کے باعث حقائق بتانے سے گریزاں رہا، ورنہ دوسری جانب کسی اور ملک کا باشندہ ہوتا تو جاوید اختر سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتا کہ آپ یہ بات نیک نیّتی سے یا شہدائے غزہ کی ہمدردی میں ہر گز نہیں کہہ رہے، کیونکہ آپ کا وزیراعظم مودی اور اسرائیل کا قاتل وزیراعظم نیتن یاہو ایک دوسرے کے سب سے قریبی دوست اور اتحادی ہیں، بھارت کا اسرائیل کے ساتھ ملٹری الائنس ہے اور اسرائیل کے تمام شیطانی ہتھکنڈوں میں بھارت کی حکومت کا مکمل تعاون اور سپورٹ شامل ہوتی ہے، آپ نے ہزاروں معصوم بچوں کے قاتل اسرائیل کی درندگی میں پوری طرح ساتھ دینے پر کبھی نریندر مودی کی مذمّت کی ہے؟ آپ نے کبھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچوں کے قاتل اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات ختم کردے؟ بالکل نہیں۔ آپ نے تو کبھی اسرائیل کی مذمّت بھی نہیں کی ۔
اس کے علاوہ آپ کی حکومت اور آپ کی فورسز ایک لاکھ سے زیادہ بے گناہ کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کشمیری خواتین کی عصمتیں پامال کر چکی ہیں۔ کیا آپ نے انسانی ہمدردی کے تحت کبھی کشمیر کی مظلوم خواتین کے حق میں آواز اٹھائی ہے؟ بے شمار کشمیری نوجوان کئی کئی سالوں سے بھارت کی جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ آپ کے اندر کبھی انسانیت جاگی ہے اور آپ کے منہ سے ان بے گناہوں کے لیے ہمدردی کا کبھی ایک لفظ بھی نکلا ہے؟ ہر گز نہیں۔ جاوید اختر کو یہ بھی بتانا ضروری تھا اور شاید تمام ملحدین یہ سن کر چونک اٹھیں کہ وہ اوصاف جنھوں نے انسان کو حیوانوں سے ممتاز کیا ہے اور انسانی معاشروں کو وحشیانہ خون ریزی سے بچانے اور اسے انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا ہے، وہ تمام اوصاف کسی بے جان فطرت اور بے شعور کائنات نے نہیں خالق ِکائنات نے عطا کیے ہیں۔ عدل، انصاف، رحم، انسانی مساوات اور انسانی ہمدردی جیسے اعلیٰ ترین تصورات انسانی نہیں آسمانی ہیں، یہ کسی یونانی، ایرانی یا یورپی فلسفی کے ایجاد کردہ تصورات نہیں ہیں۔
ان تمام تصورات سے کائنات کے خالق نے اپنی نازل کردہ کتابوں کے ذریعے انسانوں کو روشناس کرایا ہے، ورنہ انسان تو قبضہ کرنے، غلبہ پانے اور حریف کو بے رحمی سے ختم کردینے کا رجحان رکھتا ہے۔ صدیوں کی انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جاوید اختر کے ہم مذہبوں (یعنی خدا کے منکروں) نے جب بھی کوئی علاقہ یا خطہ فتح کیا، وہاں وحشیانہ شیطانی کھیل کھیلے، انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے، عورتوں کی آبرو ریزی کی اور عمارتیں جلا کر راکھ کر ڈالیں اور جب خدا کے ماننے والے فتح یاب ہوئے تو مکّہ میں اٹھی ہوئی تلواروں کو روک دیا گیا اور پھر مکہ کی وادیوں میں اسلامی لشکر کے سالارِ اعظم ؐ کی آواز گونجی، لاتثریب علیکم الیوم۔ بے پناہ ظلم کرنے والے اپنے جانی دشمنوں سے کہا گیا ۔’’جاؤ تمہیں معاف کیا، تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا‘‘۔ فلسطین فتح ہوا تو کسی ایک خاتون کی بھی بے حرمتی نہ کی گئی اور کسی ایک مفتوح کو بھی قتل نہ کیا گیا۔
وہاں بھی فاتح فوج کے سپریم کمانڈر فاروقِ اعظمؓ نے پہلا اعلان یہی کیا کہ ’’آج سے غیر مسلموں کا تحفظ بھی ہماری ذمے داری ہے‘‘۔ قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوا تو سلطان محمد فاتح سفید گھوڑے پر شہر میں داخل ہوا مگر اس کی گردن اپنے خالق ومالک کے آگے عجز و انکسار سے جھکی ہوئی تھی، نہ استنبول کی گلیاں خون سے سرخ ہوئیں اور نہ کسی مفتوح پر تلوار اٹھائی گئی۔ یہ کون سی تعلیمات کا کرشمہ تھا، یہ اُسی خدا کے احکامات (Divine guidence) کا نتیجہ تھا جس نے انسانوں کو رحم اور انسانی جان کی حرمت کا حکم دیا ہے، جنگ اور فتح کے آداب سکھائے ہیں اور مخالفین پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔
آسمانوں سے انسانوں کے لیے اترنے والا سب سے قیمتی تحفہ جس نے انسانی معاشروں کو رہنے کے قابل بنایا، وہ عدل اور انصاف کا تصوّرہے۔ تم جس ہستی کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہو کہ دنیا میں اتنا ظلم ہورہا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے۔
جانتے ہو اُس ہستی نے انسانوں کو کس معیار کا انصاف کرنے کے احکامات دیے ہیں؟ نہیں جانتے تو سنو! وہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ ’’انصاف پر قائم رہنے والے بنو (یعنی ہر حال میں انصاف کرو) چاہے اس کی زد تمہارے عزیز واقارب پر یا تمہارے والدین پر یا تمہاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو؟‘‘ یعنی اپنے والدین کے خلاف بھی فیصلہ کرنے سے گریز نہ کرو اور انصاف کا تقاضا ہو تو اپنے خلاف بھی فیصلہ کردو مگر کسی صورت انصاف کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دو۔ پھر یہاں تک حکم دیا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمہیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘ اس معیار کا انصاف کرنے کا تصور کیا کوئی انسان دے سکتا ہے؟ کیا انسانی تاریخ میں کسی انسان نے ایسا تصوّر دیا ہے؟ کیا کوئی ملحد، ارسطو، افلاطون، مارکس یا روسو کی کسی تحریر سے انصاف، رحم یا انسانی مساوات کے بارے میں ایسی تلقین کی کوئی معمولی سی جھلک بھی دکھا سکتا ہے، جو قادرِ مطلق کی آخری کتاب میں اور آخری نبیؐ کی تعلیمات میں جگہ جگہ ملتی ہے، جی نہیں آپ لوگ انصاف کے ایسے معیار کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتے جس کا تصوّر زمین وآسمان کے مالک نے دیا اور جس کی عملی تعبیر رسالتمآبؐ کی اپنی شخصیّت تھی، جنھوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میری بیٹی فاطمہ بھی جرم کرتی تو اسے بھی ایک عام آدمی کی طرح وہی سزا ملتی‘‘ Equality before law کا اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا۔ آپؐ کے بعد آپ کے جلیل القدر ساتھی عمرؓ (فاروق اعظمؓ) نے اپنے بیٹے کے جسم پر کوڑے کی ضربات سے انصاف اور قانون کی حکمرانی کے سارے باب لکھ دیے اور پھر چڑھنے والے ہر دن کی ہر گھڑی باب العلم حضرت علی مرتضیٰؓ کے ان الفاظ کی صداقت ثابت کررہی ہے کہ ’’کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم اور ناانصافی کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی‘‘۔ دنیائے الحاد کا دامن ایسی سنہری مثالوں سے بالکل خالی ہے۔
اب آئیں جاوید اختر کی ’’سب سے بڑی دلیل‘‘ پر کہ چونکہ غزہ میں اتنے ہزار بچے شہید ہوگئے اور خدا نے انھیں بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا لہٰذا میں خدا کو نہیں مانتا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہزاروں سالوں سے ملحد یہی بات کرتے آرہے ہیں، مگر وہ مناظروں میں حصہ لے کر اپنے حریف کو لاجواب کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر اخلاص اور صاف دلی کے ساتھ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ کوشش کی ان میں سے بہت سوں کو جواب بھی مل گیا اور روشنی اور منزل بھی مل گئی۔ جاوید اختر اور دوسرے ملحدین کو بھی اس سوال کا جواب اللہ کی آخری کتاب میں مل سکتا ہے۔ بلکہ اگر وہ اخلاص کے ساتھ کوشش کریں گے تو ان کا تصوّرِ خدا بھی درست ہوجائے گا، اس وقت ان کے ذہن میں خدا کا تصوّر کسی بڑے پیر یا کسی بادشاہ یا حکمران سے ملتا جلتا ہے جو انسانوں کے سے جذبات رکھتا ہے اور انسانوں ہی کی طرح سوچتا ہے مگر آسمانی کتابوں نے جو اس کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ زمین وآسمان اور یہ کائنات اس نے تخلیق کی ہے۔ زندگی، موت، عزت اور ذلت بھی وہی دیتا ہے۔
تمام جہانوں کا وہی پالنہار ہے، وہی رزق دیتا ہے اور وہی قادرِ مطلق ہے۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ یعنی انسانوں کے پاس جو جائیداد یا مال ودولت ہے وہ اس کے مالک نہیں ہیں۔ اصل مالک وہی قادرِ مطلق ہے اور دنیا میں انسانوں کی اولاد کا مالک بھی وہی خالقِ کائنات ہے۔ مالک عارضی طور پر کچھ چیزیں اپنے غلاموں کو عنایت کرتا ہے مگر جب اس کا جی چاہے واپس بھی لے لیتا ہے۔ یہ اعتقاد بہت بڑی نعمت ہے، یہی نظریہ اور یہی faith بہت بڑے بڑے حادثوں میںاہلِ ایمان کو صبر اور حوصلہ دیتا ہے۔
غزہ میں بھی چھ چھ سات سات آٹھ آٹھ بیٹوں کی شہادت پر کوئی ماں پاگل نہیں ہوئی، کسی کا ذہنی توازن خراب نہیں ہوا۔ ان ماؤں کی بہت بڑی اکثریت بچوں کی لاشوں پر کھڑی ہوکر اعلان کرتی رہی کہ ’’ہمارے بیٹے اللہ کا دیا ہوا تحفہ تھے جنھیں اس نے واپس لے لیا، ہمارے بیٹے شہید ہوئے ہیں، ہم جنت میں پہنچ کر ان کے ساتھ ضرور ملیں گے‘‘۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی رہیں کہ یا الٰہی ! تونے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہو وہ ان کی مدد کے لیے پہنچیںمگر دنیا بھر کے مسلمان ملکوں میں سے کسی نے بھی ہماری کوئی مدد نہیں کی، انھیں ضرور سزا دینا۔ خالقِ کائنات ہر ظلم پر خود intervene نہیں کرتا، یہ اس کی مشیّت ہے جو اس کی ذات کی طرح انسانی ادراک سے باہر ہے مگر وہ ظلم سے لاتعلّق نہیں رہتا، وہ ظلم کو روکنے کا حکم دیتاہے۔ تمام مسلمانوں کو بھی اور تمام انسانوں کو بھی۔ بالآخروہ اپنے مقرّر کردہ یومِ حساب پر ظلم کا نشانہ بننے پرصبر کرنے والوں کو بے اندازہ اجر دے گا اور دوسری طرف ظالم کو عبرتناک سزا دے گا اور ظلم نہ روکنے اور مظلوم کی مدد نہ کرنے والوں کو بھی کڑی سزا دے گا۔
(جاری ہے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل