Loading
جوڈیشل کمیشن کی کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 175A (20) کے تحت ہائی کورٹس کے ججوں کی سالانہ کارکردگی کے مؤثر معیارات طے کرنے کے لیے مجوزہ قواعد پر اتفاق کر لیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہوا جس میں مجوزہ قواعد پر غور کیا گیا۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں اٹارنی جنرل منصور اعوان، سینیٹر علی ظفر اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے احسن بھون شامل تھے۔
اجلاس 2گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق اراکین کے درمیان ہائی کورٹس کے ججوں کی سالانہ کارکردگی کے جائزے کے لیے مجوزہ قواعد پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے تاہم کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ اگرچہ بعض نکات پر اتفاق ہو چکا ہے لیکن منظوری کے لیے ایک اور اجلاس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مجوزہ کمیٹی جو جے سی پی کے عدالتی اراکین پر مشتمل ہو گی، ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔
ججوں کے فیصلوں کے معیار اور تعداد کی بنیاد پر نمبر دیے جائیں گے۔ اسی طرح وقت کی پابندی، کارکردگی، کیس مینجمنٹ پر بھی نمبر دیے جائیں گے۔
یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ججوں کے کنڈکٹ کی بنیاد پر منفی نمبر بھی دیے جائیں۔ ہر ہائی کورٹ کی تشخیصی کمیٹی ججوں کی کارکردگی سے متعلق اپنی رپورٹ حتمی فیصلے کے لیے جے سی پی کو پیش کرے گی تاہم یہ سفارش کی گئی ہے کہ مس کنڈکٹ سے متعلق شکایات کو کمیٹیاں زیر غور نہیں لائیں گی۔
آئین کے تحت اگر جے سی پی کی اکثریت یہ قرار دے کہ کوئی جج نااہل ہے تو اس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا تاکہ اس کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی شروع کی جا سکے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ ججوں کی کارکردگی کے جائزے کے دوران انہیں نمبر دیے جائیں گے جن کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
ہائی کورٹس کے 40 ایڈیشنل ججوں کی مستقلی کے لیے بھی کمیشن کا اجلاس ہو رہا ہے۔ ان ججوں کو 26 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد مختلف ہائیکورٹس میں تعینات کیا گیا تھا۔
اطلاعات ہیں کہ کمیشن کے عدالتی اراکین کو بعض ججوں کی مستقلی پر تحفظات ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل