Thursday, January 08, 2026
 

مقبوضہ بیت المقدس؛ تیز رفتار بس نے بنیاد پرست یہودی مظاہرین کو کچل دیا

 



مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے رومما میں سخت گیر یہودی فرقے (حریدی) کے ہزاروں مظاہرین ایک شاہراہ پر احتجاج کر رہے تھے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یروشلم میں ہونے والا یہ بڑا مظاہرہ درآصل فوج میں بھرتی کے متنازع پالیسی کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ مظاہرے میں شامل یہودیوں نے ایسے بینرز اُٹھا رکھے تھے جن میں لکھا تھا کہ یا تو حریدی بنو، یا فوجی — دونوں نہیں” اور “گناہ کرنے سے بہتر ہے مر جانا”۔ مظاہرے کے دوران بھیڑ اس قدر بڑھ گئی کہ بیریکیڈ ٹوٹنے لگے، میڈیا ایریا میں دھکم پیل ہوئی اور جھگڑے بھی دیکھنے میں آئے۔ مظاہرین نے شمگر اسٹریٹ اور یرمیاہو اسٹریٹ کے چوراہے کو بلاک کر رکھا تھا اور سڑک پر ٹائر بھی نذرآتش کر رکھے تھے اور شدید نعرے بازی جاری تھی۔ احتجاج کے دوران متعدد مقامات پر ڈمپسٹر جلائے گئے، پولیس اور صحافیوں پر پتھر اور انڈے پھینکے گئے۔ جس میں کئی صحافی زخمی بھی ہوئے۔ اسی دوران حریدی علاقوں میں چلنے والی ایک تیز رفتار مسافر بس اچانک مظاہرین کے ہجوم میں داخل ہوگئی اور متعدد افراد کو کچل  دیا۔ عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق بس ایک نوجوان کو کئی میٹر تک گھسیٹتی رہی۔ یوسف آئزن تھال بس کے نیچے پھنس گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس واقعے میں 14 سالہ لڑکا یوسف آئزن تھال ہلاک ہوگیا جب کہ 3 دیگر افراد زخمی ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ پولیس نے بس ڈرائیور کو حراست میں لیا جس نے دوران تفتیش بتایا کہ مظاہرین نے اسے گھیر کر حملہ کیا گیا اور گاڑی کو آگے بڑھنے سے روکا جا رہا تھا۔ عبرانی میڈیا کے مطابق ڈرائیور نے واقعے سے قبل پولیس ہیلپ لائن پر مدد کی درخواست بھی کی تھی۔ الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ یہودیت (UTJ) نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بس ڈرائیور کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے برعکس، قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے کہا کہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ صدر اسحاق ہرزوگ نے واقعے کو خطرناک انتباہ قرار دیتے ہوئے تحمل سے کام لینے اور مزید سانحات سے بچنے کی اپیل کی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل