Thursday, January 08, 2026
 

وینزویلا سے پیٹرول کی منتقلی؟ امریکا نے 2 روسی تیل بردار جہاز ضبط کرلیے

 



امریکی افواج نے بحر اوقیانوس پر دو تیل بردار جہازوں کو پکڑ کر عملے کو تحویل میں لے لیا جو وینزویلا سے غیر قانونی طور پر تیل منتقل کررہے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا کہ تیل بردار جہازوں کے خلاف یہ کارروائیاں پیٹرول کی غیر قانونی تجارت اور پابندیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کا حصہ ہیں۔ امریکی حکام نے بتایا کہ پہلا جہاز جسے ضبط کیا گیا اس کا نام Marinera تھا اور اس پر روس کا پرچم لہرا رہا تھا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ جہاز امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا تھا اور اسی لیے امریکی وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت قبضے میں لیا گیا۔ بحراوقیانوس کی امریکی یورپی کمانڈ کے بیان میں کہا گیا کہ کوئسٹ گارڈ کٹر نے جہاز کا تعاقب کیا اور اسے روک کر ضبط کیا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ یہ جہاز وینزویلا سے غیر قانونی تیل برآمد کرنے میں ملوث تھا جس پر امریکا نے پابندی عائد کررکھی ہے۔ دوسرا تیل بردار جہاز جسے امریکی فورسز نے قبضے میں لیا وہ ایم ٹی صوفیہ نامی تھا جسے کریبین کے پانیوں پر ضبط کیا گیا اور جس پر کسی ملک کا پرچم نہیں تھا۔ اس جہاز کو کسی ملک کا پرچم نہ لہرانے کے جرم میں ضبط کیا گیا اور اسے ان جہازوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو غیر شفاف یا خفیہ طریقے سے تیل کی نقل و حمل کر رہے ہیں۔ امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس تیل بردار کا براہِ راست تعلق بھی وینزویلا سے ہے یا نہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔  خیال رہے کہ امریکا نے وینزویلا پر تیل کی پابندیوں اور سمندر میں بحری ناکہ بندی کو سخت کیا ہوا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی تیل بردار جہاز کے خلاف کارروائی کی جائے گی چاہے وہ دنیا کے کسی بھی سمندر میں ہو۔   

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل