Loading
سابق اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی نے کہا ہے کہ کیا ملکی اداروں کو چاہیے کہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف بات کریں؟ سیاسی جماعت سیاسی جماعت کے خلاف بات کرسکتی ہے، فوج نہیں! فوج کو کس نے حق دیا ہے کہ الزام تراشی کرے؟ جب سوال ہوگا تو جواب آئے گا۔
آج بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات کا دن تھا، پی ٹی آئی رہنماء مشتاق غنی، میاں عمر، شیر علی آفریدی، افتخار چارسدہ، سمیع اللہ، شاہ تراب بھی اڈیالہ روڈ پہنچے۔ پی ٹی آئی کے تمام رہنماؤں کو داہگل ناکے پر پولیس نے روک لیا۔
پی ٹی آئی رہنماء و سابق اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی نے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم ہر منگل کو بھی آتے ہیں، بہنیں رات گئے تک بیٹھی رہتی ہیں، بھائی سے ملاقات نہیں ہوتی، جمعرات دوستوں کا دن ہے سب آتے ہیں ناکوں پر روک لیا جاتا ہے، اس ناکے سے آگے اور لوگ تو جارہے ہیں صرف ہم 6 افراد کو روک لیا ہے، میں نے پولیس سے کہا کہ تلاشی لو اور آگے جانے دو ہم قانون ساز اسمبلی کے ممبر ہیں ہم پیدل جانا چاہتے ہیں لیکن جانے نہیں دیا جارہا۔
انہوں نے کہا کہ قانون نظر نہیں آتا یہ فسطائیت ہے، جس حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں وہ یاد رکھے ایک ایک چیز کا حساب لیا جائے گا، بانی دو اڑھائی مہینے سے قید تنہائی میں ہیں کس قانون کے تحت ملاقات پر پابندی لگائی گئی ہے؟ ہمارے وزیراعلی نے وزیراعظم کو کال عمران خان سے ملاقات کی بات کی تو وزیراعظم نے جواب دیا پوچھ کر بتاؤں گا، وزیراعظم کی عملاً حکومت نہیں ہے وہ ڈائیلاگ کیا کرے گا؟ وہ مذاکرات کریں جن کے پاس اختیارات ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کبھی انتشار پر یقین نہیں کرتی، ہم آئین کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ ن ہو یہ بتادیں کیا وہ بااختیار ہیں؟ ہمارے نکات کو مان لیں، آج ملاقات نہیں کرائی جارہی ملاقات نہ کرانے کی وجہ وہ کوئی چیز چھپانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر علی پارٹی کے چئیرمین ہیں ساری پارٹی ان کے فیصلے مانتی ہے، بانی نے بیرسٹر گوہر کو چئیرمین چنا تھا ہم ان کے احکامات مانتے ہیں۔
سابق اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی نے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر انہوں نے کہا کہ کیا ملکی اداروں کو چاہیے کہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف بات کریں؟ سیاسی جماعت سیاسی جماعت کے خلاف بات کرسکتی ہے، حکومت میں بیٹھا عطا تارڑ ہمارے خلاف بات کرے تو اس کو بتائیں، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں بانی خود کہتے ہیں ملک بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری مگر فوج کو کس نے حق دیا ہے کہ الزام تراشی کرے؟ جب سوال ہوگا تو جواب آئے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل