Loading
وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک میں عوام کے لیے سودمند اور مؤثر پیکیج تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان پیکیج اور پچھلے سال کے رمضان پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکیج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکیج کی بدولت ارزاں نرخوں پر اشیائے خور و نوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا ہے ۔ملک میں کئی دہائیوں سے جاری یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے، مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کر دیا۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو آنے والے رمضان کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکیج اور سفارشات مرتب کرنے کی خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے۔ غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ غریب عوام کو رمضان پیکیج کی امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو۔ عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رمضان پیکیج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی رقوم میں غریب عوام کے دائرہ کار اور شمولیت کو ممکن حد تک وسیع کیا جا سکے۔ رمضان پیکیج میں پچھلے سال سے بہتر اور موثر ادائیگی کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات جلد پیش کی جائیں۔ مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ اور مستند آڈٹ فرم نے حکومتی پیکیج کو موثر اور شفاف قرار دیا ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سوشل پروٹیکشن والٹ نظام رائج کیا جارہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جارہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم اسی سم کے ذریعے ڈیجیٹلی تقسیم کی جائیں گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرا اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل