Saturday, January 10, 2026
 

بانی کو سمجھانے کی ضرورت

 



نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی منعقدہ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے لیے کمیٹیاں بنائیں اور سیاسی کارکن رہا اور مقدمات ختم کیے جائیں۔ یہ کانفرنس اسیر بانی پی ٹی آئی کے پرانے ساتھیوں اور ان کی حکومت میں اہم عہدوں پر تعینات رہنے والوں کے علاوہ دو قابل ذکر سیاسی پارٹیوں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے بھی کی ہیں جب کہ بانی کی رہائی اور سیاسی صورت حال میں بہتری کے حامی دیگر رہنماؤں نے شرکت کی اور پی ٹی آئی اور اس کی اپنی ہی تحریک آئین تحفظ کے کسی رہنما نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی بلکہ پی ٹی آئی نے تو پہلے ہی کانفرنس منعقد کرنے والوں کو اپنا ’’غدار‘‘ قرار دے کر ان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا تھا اور پی ٹی آئی سے نکالے جانے والے رکن قومی اسمبلی ضرور شریک ہوئے اور شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے مگر بانی نے اپنے پارٹی رہنماؤں کی بجائے کسی اور کو اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بانی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا مگر ڈائیلاگ بانی و دیگر کی رہائی کے ساتھ بنیادی نظام پر بھی ہونا چاہیے اور میں نہ مانوں والی سوچ نے پی ٹی آئی کو اس حال پر پہنچایا ہے۔ پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والوں، پیپلز پارٹی اور اے این پی سے پی ٹی آئی کو نہ جانے کیا مسئلہ ہے۔کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو اکٹھا ہونا اور سیاستدانوں کو خود کو مضبوط بنانا ہوگا اور اداروں کو بھی اپنی آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا چاہیے۔ کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈائیلاگ کسی کو اقتدار میں لانے کے لیے نہیں عوام کے لیے ہونے چاہئیں جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے وہ یہاں نہیں ہیں جب کہ وہی بینی فشری ہیں اور کرپشن میں سیاستدانوں سمیت سب ملوث ہیں۔ کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ جب کوئی اقتدار میں ہوتا ہے تو اس کا بیانیہ ہوتا ہے کہ سب ٹھیک ہے اور جب وہ اپوزیشن میں آ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ سب کچھ تباہ ہو گیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ڈائیلاگ میں لاپتا افراد، آزادی صحافت، صوبائی ہم آہنگی اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ہونا چاہیے۔ کے پی حکومت میں شامل نہ کیے جانے والے ایک رہنما نے کہا کہ سیاسی طور پر ملک تقسیم اور بداعتمادی کا بھی شکار ہے۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ بانی موجودہ صورت حال کی بہتری میں کسی حد تک تعاون کر سکتے ہیں یہ اہم ہے مگر حل نکلنا چاہیے۔کانفرنس میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت کو بھی محسوس کیا گیا اور کہا گیا کہ محمود خان اچکزئی کو یہاں ضرور شریک ہونا چاہیے تھا جو معاملات بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ کانفرنس کے اعلامیے میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج، پولیس اور رینجرز سمیت تمام سیکیورٹیز فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور شہدا کے لیے دعا کی گئی اورکہا گیا کہ ملکی سالمیت، دفاع اور ملکی سلامتی کے اداروں کا وقار اور عزت و احترام ضروری ہے اور اس سلسلے میں قوم ایک ہے۔ اعلامیے میں ملکی اداروں کی عزت و احترام کا خاص طور پر خیال رکھنے پر زور دیا گیا مگر بانی اور پی ٹی آئی کا آفیشل ترجمان اسی بات سے متفق نہیں کیونکہ بانی اور پی ٹی آئی کے جارحانہ اقدامات ہی کو سیاست سمجھ کر جارحیت پر اترے ہوئے ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی کا تقرر بھی بانی نے جارحیت بڑھانے کے لیے کیا تھا جو اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ مزاحمت ہوگی تو ہی حکومت اور اداروں سے مفاہمت ہو سکے گی۔ وزیر اعلیٰ کے پی کی جارحیت کا یہ عالم ہے کہ ان کے خیال میں ملک میں دہشت گردی ختم کرنے کی نہیں بلکہ بانی جماعت کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور ہمیں اس سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ وزیر اعلیٰ کے پی کو اپنے ہی صوبے میں ہونے والی دہشت گردی اور پاک فوج کا آئے دن ہونے والا جانی نقصان اور سیکیورٹیز فورسز کی قربانیاں بالکل نظر نہیں آ رہیں۔ کانفرنس میں بانی کے خیر خواہوں سمیت کسی رہنما نے نہیں کہا کہ بانی کی رہائی ہی ملک کے موجودہ مسائل کا حل ہے بلکہ سب نے حقائق کا اعتراف اور بہتری کی بات کی۔ سابق وزیر فواد چوہدری نے ایک ٹاک شو میں کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت خود اپنے بانی کی رہائی نہیں چاہتی اور وہ خود بانی کو جیل ہی میں رکھو کمیٹی بن چکی ہے کیونکہ بانی کے رہا ہونے سے ان کے مزے ختم ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بانی کی ایک بہن کے بیٹے کو سزا ہو چکی جب کہ دوسری بہن کے بیٹے کو فوراً رہائی مل گئی۔ بانی کی ان بہنوں کی جب بھی بھائی سے ملاقاتیں ہوتی تھیں انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ انھوں نے اپنے بھائی کو سمجھایا ہے کہ وہ حقائق کا ادراک کریں اور ملکی سلامتی اداروں کے خلاف سخت اور جارحانہ بیانات نہ دیں تاکہ کشیدگی کم اور بانی کے لیے موجودہ مشکلات کم ہوسکیں۔ بانی کی بہنوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بانی کی باتیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں اور بھائی کو اصل حقائق سے آگاہ نہیں کرتیں تاکہ وہ خود کو میڈیا میں زندہ اور نمایاں رکھیں۔بانی کی بہنوں کی بھائی سے ملاقاتیں بند ہیں مگر بانی کی اہلیہ کی دو ہفتوں میں دو ملاقاتیں ہوئی ہیں تو بانی کی اہلیہ یا ان کے وکیلوں کو چاہیے کہ وہ بانی کو جارحانہ اشتعال انگیز بیانات سے روکیں اور بانی اپنے حامی سوشل میڈیا و اینکروں کو گمراہی پھیلانے سے روکیں جو حالات مسلسل بگاڑ رہے ہیں۔ بانی کو ان کے خیر خواہ ہی سمجھا سکتے ہیں کہ ان کی مزاحمت کبھی بھی مفاہمت نہیں ہونے دے گی اور نہ بانی کی رہائی ممکن ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل