Loading
سپریم کورٹ نے نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے صدر کو تین ماہ میں درخواستوں پر فیصلہ کر کے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
سپریم کورٹ نے 2019 اور 2022 میں دی گئی درخواستوں کو اُس وقت کی نافذ پالیسی کے تحت دیکھنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں برسوں تک زیرِ التوا رہیں، کوئی فیصلہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا، جنرل پوسٹ آفس کیس کا فیصلہ سابقہ پالیسیوں پر ماضی سے لاگو نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے اصولاً مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک عدالت خود نہ ماضی کا ذکر کرے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2011 کی پالیسی موجودہ درخواستوں کے وقت نافذ تھی، اسی کے مطابق درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے، متوفی ملازمین کے بچوں کو ملازمت سے متعلق پالیسی پر عمل نہ کرنا منصفانہ انتظامیہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق آئینی درخواست جنرل پوسٹ آفس کیس کی روشنی میں مسترد کر دی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل