Sunday, January 11, 2026
 

امن سے کھلواڑ اور نوبل امن انعام کی جستجو

 



آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے دبنگ سربراہ اسدالدین اویسی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ جب امریکا وینزویلا پر اس کے تیل کے لالچ میں اس کے صدر اور اہلیہ کو اپنے اسپیشل فوجی دستوں کے ذریعے گرفتار کرکے امریکا لے جا کر ان پر مقدمہ چلا سکتا ہے تو مودی کیوں خاموش بیٹھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی قاعدہ قانون موجود نہیں ہے، کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور مودی کے دماغ ایک ہی طرح کی سوچ رکھتے ہیں ، دونوں کے دماغوں میں ہر وقت شدت پسندی کی لہریں اٹھتی رہتی ہیں جو انھیں بے چین کرتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے ان سے کسی مثبت سوچ کی امید رکھنا عبث ہے۔ اب مودی کو دیکھیے کہ اس نے چند ماہ قبل پاکستان پر بلاجواز حملہ کر دیا تھا۔ اس میں کئی پاکستانی شہری شہید ہو گئے تھے،اگر بھارت سچا ہوتا تو وہ پاکستان کو ہی کیا پوری دنیا کو ثبوت دکھاتا اور پاکستان پر اپنا الزام ثابت کرنے کی کوشش کرتا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بھارت کا پاکستان کو بدنام کرنے اور پاکستان پر حملہ کرنے کا مزید نیا ڈرامہ تھا۔ افسوس کہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے مودی اب تک ایسے کئی خونی ڈرامے رچا چکا ہے۔ ایک دفعہ تو اس نے اپنے درجنوں فوجیوں تک کو اپنے اقتدار کی بھینٹ چڑھا دیا تھا اور پاکستان کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا تھا جو بالکل جھوٹ نکلا۔ دراصل بھارت میں ہونے والے ہر الیکشن سے پہلے ایسے ڈرامے رچانا مودی نے اپنی پارٹی کی پالیسی بنا لی ہے اور پھر اس سے اسے فائدہ بھی ہوتا ہے مگر اب یہ معصوم بھارتیوں کا قتل عام رنگ لے آیا ہے اور اس کا بھانڈا بھی پھوٹ گیا ہے۔ کئی بھارتی تجزیہ کاروں نے کھل کر کشمیر میں مودی کی ان وارداتوں کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کر دیا ہے اور مودی کی سفاکی کے ثبوت بھی پیش کر دیے ہیں۔ کئی کانگریسی لیڈروں نے بھی مودی کی ہر دفعہ الیکشن سے پہلے پاکستان کے خلاف ڈرامے رچانے کی سخت تنقید کی ہے اور اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہو سکتا ہے مودی اپنے ہی لوگوں کے ناحق قتل سے اب باز آ جائے۔ وینزویلا میں ٹرمپ نے جو غیر قانونی کارروائی کی ہے، اس پر تو مودی کو سخت اعتراض ہے مگر خود اپنی حرکتوں اور ظلم پر اس کی کوئی نظر نہیں ہے۔ امریکا نے وینزویلا کے صدر کو اغوا ضرور کر لیا ہے مگر وینزویلا کی حکومت ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق ذرا خوفزدہ ہوئی ہے، اس کی نائب صدر نے حالات سنبھال لیے ہیں اور ملک میں کوئی بدنظمی نہیں ہوئی ہے۔ ملک اپنے معمول کے مطابق چل رہا ہے جس پر امریکی صدر کو بہت تشویش کا سامنا ہے کیوں کہ وہ تو یہ سمجھ رہے تھے ان کے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے کے بعد وہاں کے حالات افراتفری کا شکار ہو جائیں گے اور اس طرح وہ وہاں تیل کے کنوؤں پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر ہوا یہ ہے کہ ان کے ارمان پورے نہیں ہو سکے ہیں اور ان کی جارحیت پر انھیں اب پوری دنیا کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،خود امریکا کے اندر سے انھیں تنقید کا سامنا ہے۔ نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی نے ان کے اس حملے کو جارحانہ اقدام قرار دیا ہے اور اس سے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ان پر الزام لگایا ہے۔ ادھرکئی یورپی ممالک جن میں ان کے خاص حلیف برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں نے ان کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ادھر چین کی جانب سے نہ صرف سخت تنقید کی گئی ہے بلکہ امریکی حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ فوراً وینزویلا کے صدر کو رہا کر دے اور وہاں آیندہ کسی بھی قسم کے جارحانہ اقدام سے گریزکرے۔ ٹرمپ کا وینزویلا پر حملہ محض پہلا قدم تھا، اس کے بعد وہ کئی ممالک پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ وہ ایران،کینیڈا، گرین لینڈ، کولمبیا،کیوبا اور ارجنٹینا پر بھی اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے بے چین تھے اب وینزویلا پر ناکام مہم جوئی کے بعد ان کے ارادے ضرور بدلیں گے اور اب اس کے بعد کم سے کم ایران ضرور ٹرمپ کے غیض و غضب سے محفوظ ہو جائے گا ورنہ ان کا ایران پر جارحیت کرنے کا پورا ارادہ تھا اور یہ صرف اسرائیل کی بقا کی خاطر ایسا کرنا چاہتے تھے جب کہ امریکا کی ایران سے براہ راست کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ٹرمپ چاہتا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو اپنی من مانی کرنے دے اور اس کے جارحانہ اقدام کے خلاف مزاحمت نہ کرے۔ دوسری جانب ایران صرف یہ چاہتا ہے کہ اسرائیل مظلوم فلسطینیوں پر مزید ظلم نہ کرے اور انھیں ان کے مقبوضہ علاقے واپس کر دے۔ خطے کے دیگر عرب ممالک بھی یہی چاہتے ہیں مگر افسوس کہ نیتن یاہو کہاں باز آنے والا ہے، وہ تو اب گریٹر اسرائیل کے خواب دیکھ رہا ہے مگر اس کی اصل طاقت امریکا ہے جو اس کے ہر آڑے وقت میں اس کی بھرپور مدد کرنے آ دھمکتا ہے۔ اب امریکا نے وینزویلا کے خلاف جو نئی جنگ چھیڑ دی ہے، اس کا فائدہ بھی اسرائیل کو ہی ہوگا، اگر یہ جنگ آگے بڑھی اور کولمبیا بھی اس میں شامل ہو گیا تو پھر اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو ٹرمپ کا امن منصوبہ چل رہا ہے، اس کے درہم برہم ہونے کا احتمال ہے جس سے نہ صرف فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ آزاد فلسطینی ریاست کا معاملہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل