Sunday, January 11, 2026
 

عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟

 



ایران کے سابق بادشاہ کے بیٹے اور سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں اور ملک گیر ہڑتالوں کو وسعت دیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق رضا پہلوی نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے عوام سے جدوجہد تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی سڑکیں کسی جابر حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہیں اور عوامی احتجاج ہی کسی بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔ رضا پہلوی نے امید ظاہر کی کہ 14 دنوں سے جاری سڑکوں پر عوام کا ہونا اب ایک قومی تحریک میں بدل چکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا جس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع تر ہو، ڈٹے رہے اور عوام سڑکوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھیں۔ رضا پہلوی نے سرکاری ملازمین، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں سے وابستہ افراد، ٹرک ڈرائیورز، اساتذہ، نرسوں، تعلیمی ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، پنشنرز اور معاشی مشکلات کا شکار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ہمہ گیر ہڑتالوں اور مظاہروں کی حمایت کریں۔ رضا پہلوی کون ہیں  رضا پہلوی اکتوبر 1960 میں تہران میں پیدا ہوئے۔ وہ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ شاہی خاندان کے واحد مرد وارث ہونے کے باعث ان کی پرورش خصوصی اور پرتعیش ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے نجی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور بچپن ہی سے انہیں بادشاہت کے فرائض کے لیے تیار کیا جاتا رہا۔ نوجوانی میں انہیں امریکی ریاست ٹیکساس بھیجا گیا جہاں وہ لڑاکا طیاروں کے پائلٹ کی تربیت حاصل کر رہے تھے تاہم 1979 کے ایرانی انقلاب نے ان کے مستقبل کا رخ بدل دیا۔ انقلاب کے نتیجے میں شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا اور امام خمینی کی حکومت قائم ہوئی جس کے بعد رضا پہلوی امریکا میں ہی مقیم ہوگئے۔ بعد ازاں انہوں نے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی اور ایک ایرانی نژاد امریکی وکیل یاسمین پہلوی سے شادی کی، جن سے ان کی تین بیٹیاں نور، ایمان اور فرح ہیں۔ رضا پہلوی آج خود کو تخت کے دعوے دار کے بجائے قومی مصالحت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو آزادانہ انتخابات، قانون کی بالادستی، اور مرد و عورت کے مساوی حقوق کی جانب لے جانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا مستقبل بادشاہت ہو یا جمہوری نظام، اس کا فیصلہ عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے کرنا چاہیے نہ کہ کسی فرد یا گروہ کو مسلط کرنا چاہیے۔ پہلوی خاندان کی واپسی ؟ گزشتہ برسوں میں ایران میں پہلوی خاندان کے حوالے سے بحث دوبارہ زور پکڑتی نظر آئی ہے۔ 2017 کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بعض علاقوں میں رضا پہلوی کے دادا کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ اسی طرح 2022 میں پولیس حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے وسیع احتجاجی سلسلے نے رضا پہلوی کو ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ دلائی۔ اگرچہ انھوں نے بیرون ملک بیٹھ کر ایرانی اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوششیں کیں تاہم ناقدین کے مطابق وہ اب تک کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا مؤثر آزاد میڈیا نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے ان کی سیاسی تحریک تسلسل برقرار نہ رکھ سکی۔ صدر ٹرمپ کی دھمکی  ادھر امریکی صدر نے دھمکی دی کی کہ اگر اب مظاہرین میں سے کوئی ایرانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تو ایران پر بڑا حملہ کردیں گے۔ یہ دھمکی اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل ہوگئی کہ 3 جنوری کو امریکی فورسز نے وینزویلا پر حملہ کیا اور صدر مادورو کو اہلیہ سمیت حراست میں لیکر نیویارک لے آئے۔ جہاں اُنھیں عدالت میں منشیات اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم پر پیش کیا گیا۔ صدر مادورو نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ انھوں نے عدالت میں کہا کہ مجھے گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا، میں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں اور یہ سیاسی مقدمات ہیں۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے امریکی فوج کو دنیا کے کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا حکم دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل