Loading
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری ہنگامہ آرائی اور احتجاج پر عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ان کے خدشات کم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ اس ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ اگر لوگوں کو تحفظات ہیں تو ان کو دور کرنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن اس سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم کسی انتشاری گروپ کو اجازت نہ دیں کہ وہ آئے اور پورے ملک کو خراب کرے۔
نوجوانوں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ وہ ان ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور دہشت گردوں کے دھوکے میں مت آئیں اور ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اس ہنگامہ آرائی میں شامل ہونے سے روکیں، ہم خبردار کر رہے ہیں یہ لوگ تربیت یافتہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے دشمنوں نے ملک کے اندر اور باہر دونوں جگہ لوگوں کے ایک گروپ کو تربیت فراہم کردی ہے تاکہ وہ سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کرے اور شہریوں کو قتل کرے۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ دشمن نے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو ملک میں اتار دیا ہے، ہنگامہ آرائی کرنے والے اور شرپسند احتجاج کرنے والے لوگ نہیں ہیں، ہم احتجاج کرنے والوں کو سن رہے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عوام کے خدشات کم کر رہے ہیں اور ہم کسی بیرونی طاقت کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ قوم کے درمیان انتشار کا بیچ بوئے۔
صدر مسعود پزشکیان نے عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے ہر قسم کی کوششیں کرنے کا وعدہ کیا اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنےو الے افراد کو دعوت دی کہ بیرونی حمایت سے ہونے والی کشیدگی کے خلاف حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وینزویلا، غزہ اور دیگر ملکوں میں اپنے اقدامات پر شرمندہ ہونا چاہیے۔
صدر نے واضح کیا کہ ملک میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہیں، امریکا اور اسرائیل کہہ رہے ہیں ہم ان کے پیچھے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمارے ملک میں بچوں کو قتل کیا اور ان شرپسندوں کو کہہ رہے ہیں جاؤ تباہ کرو اور جلاؤ۔
ایرانی عوام سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم کے مسائل حل کرنے کے لیے متحد رہیں، کسی بھی شہری کو افراتفری نہیں پھیلانی چاہیے اور کسی انسان کو دوسرے انسان کی جان نہیں لینی چاہیے۔
مسعود پزیشکیان نے ایرانی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا مقصد ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور مسلح دہشت گردوں کے راستے سے الگ کریں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں کرپشن کی جڑوں کے خلاف لڑ رہی ہے، انتظامیہ قوم کے مسائل حل کرنے اور عوامی خدشات کم کرنے کے لیے اقدامات کی ذمہ دار ہے اسی دوران شرپسندوں کی جانب سے امن و امان کو خراب کرنے سے روکنے بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
مسعود پزشکیان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا قتل کسی صورت ناقابل قبول ہے اور امریکا اور اسرائیل شرپسندوں کو تربیت دے رہے ہیں اور ان کو تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل