Sunday, January 11, 2026
 

کرکٹ میں بھارت کے سیاسی رویہ پر آئی سی سی کی خاموشی پر قومی کرکٹرز برس پڑے

 



کرکٹ میں بھارت کے سیاسی رویہ پر آئی سی سی کی خاموشی پر قومی کرکٹرز برس پڑے، بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ  کی عالمی تنظیم اپنا کردار ادا کرے۔ مقامی ہوٹل میں منعقدہ پی سی سی ایل ٹو کی افتتاحی تقریب میں  میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ آل راونڈرعبدالرزاق  نے کہا کہ بھارتی رویہ سب کے سامنے عیاں ہے، اب پرانا دور نہیں رہا، کھیل میں سیاست کو داخل کرنا مناسب نہیں، کھیل کو کھیل ہی رہنا چاہیے، بھارت نے ہاتھ نہ ملا کرمنفی رویہ کا آغاز کیا، ہم نے یہی دیکھااور سیکھا ہے  کہ کرکٹ امن کا پیغام دیتی ہے، کرکٹ کی بہتری کے لیے قدم آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں دو نئی ٹموں کی شمولیت خوش آئند ہے، پاکستان میں کرکٹ تقویت پارہی ہے، کافی مدت کے بعد پاکستان شاہین اور انڈر 19 کی سطح پرکرکٹ کو دوام ملا ہے،  پاکستان کرکٹ کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر بیٹرکامران اکمل نے کہا کہ مودی سرکار کرکٹ سے نہیں، کام کرکے اپنے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے، جب تک آپ پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رکھیں گے آگے نہیں بڑھ سکتے، بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کے ساتھ آئی  پی ایل میں غلط ہوا ،جب ایک پلیئر کوتحفظ نہیں دے سکےتو پوری ٹیم کو کیسے  سیکیورٹی  دیں گے۔ دیگر ممالک میں رہنے والے پاکستانی کرکٹرز کو بھی بھارتی وزیوں کے مسائل درپیش ہیں،2023 ورلڈکپ2023 میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی آئی سی سی کو اب مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، اب آئی سی سی کو یہ چیزیں سمجھنا ہوں گی، ماضی میں  پاکستان آنے والی بھارتی کرکٹ ٹیم کو بہت پیار ملتا تھا، پہلے کرکٹرز بھی چیزوں کا خیال کرتے تھے، کھلاڑی مجبورہیں، ان کو حکومت کی باتوں پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اپنے دور کے معروف  ٹیسٹ اسپنر سعید اجمل نے کہا کہ آئی سی سی کو پیغام ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کے مطابق  درست سمت میں کرکٹ   کرائے، اگرآئی سی سی  بھارتی من مانیوں کو نہیں روک سکتا تو اپنی ذمہ داری سے  الگ ہوجائے، پوری کرکٹ ایک ملک کے کہنے پر نہیں چل سکتی، پی سی بی کو ایکشن لینا چاہیے کہ ہمارے کھلاڑیوں کے اوپر کیوں ایکشن کے مسائل آتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل