Saturday, January 10, 2026
 

کلیات ڈاکٹر محمد اجمل

 



کلیات ڈاکٹر محمد اجمل کافی عرصے سے اسٹڈی میں پڑے ہوئے تھے۔چند دن قبل یہ کتاب اتفاقیہ طور پر سامنے آئی۔ ورق گردانی شروع کی۔ اس کو مرتب ڈاکٹر امجد طفیل نے کیا ہے اور خوب کیا ہے۔ یہ نسخہ دراصل اجمل صاحب کی بیش قیمت تحریریں ہیں ‘ جو جمع کی گئی ہیں۔ نفسیات ‘ تصوف اور ادب پر یہ مقالے کمال اہمیت کے حامل ہیں۔ اردو‘ میں اسقدر مشکل مضامین کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہاں ‘ انگریزی زبان میں ان موضوعات پر بے حد لکھا گیا ہے۔ اب اس کتاب ‘ کے چیدہ چیدہ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ پیش لفظ میں امجد طفیل صاحب فرماتے ہیں: آج برسوں بعد جب میں ان کی اردو تحریروں کو کلیات کی شکل میں مرتب کر رہا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یوں میں ان کے ساتھ اپنی رفاقت کو دائمی شکل دینا چاہتا ہوں۔ اس سے پہلے بھی ڈاکٹر محمد اجمل کی تحریریں دوبار شمیا مجید نے مرتب کر کے شائع کی ہیں۔ لیکن زیر نظر کلیات میں آپ کو بعض ایسی تحریریں بھی ملیں گی جو اس سے پہلے عرصہ دراز سے قارئین کی نظروں سے روپوش تھیں۔ مثلاً ڈاکٹر صاحب کی پہلی تصنیف ’’سقراط‘‘ مدت سے دستیاب نہیں تھی۔ اس کلیات میں اس کو سب سے پہلے جگہ دی گئی ہے۔ ان کی دوسری کتاب ’’تحلیلی نفسیات‘‘ کو مکمل اور مربوط شکل میں کلیات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ شخصیت نامے میں کچھ یوںلکھا گیا ہے ۔ تصوف اور صوفیا ء سے ڈاکٹر اجمل کی دلچسپی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ انھوںنے مغرب کے جدید علوم کا مطالعہ دقعت نظر سے کیا تھالیکن ان کے قدم اپنی تہذیبی زمین پر بھی مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔ مذہب میں اور تصوف میں انھیں ایسے عناصر نظر آتے تھے جو جدید ذہن کومطمئن کر سکتے ہیں اور مادی دوڑ میں جتے انسان کو روحانی آسودگی بہم پہنچا سکتے ہیں۔  1975 میں سفر حجاز کے دوران ان کی ملاقات ایک نو مسلم صوفی ٹائیٹس بروک ہارٹ سے ہوئی اور ڈاکٹر اجمل نے ان سے بیعت کی خواہش کا اظہار کیا۔ بروک ہارٹ نے مسجد نبوی میں ان سے بیعت لی۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اصل بیعت خلیفہ لے گا۔ 1978میں جب انھیں جنیوا جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں سے سوئٹزرلینڈ گئے اور وہاں ’’شوآں‘‘ سے بیعت کے بعد دونوں ایک ہی سلسلہ سے منسلک ہونے کے باعث ایک دوسرے کے مزید قریب ہو گئے۔ سگمنڈ فرائیڈ کے متعلق ڈاکٹر اجمل رقم کرتے ہیں:اب ذرا فرائیڈ کے فلسفہ حیات کی طرف آئیے۔ اس کے نزدیک کوئی جامع اور پہلو دار نظریۂ حیات قائم کرنا سرے سے غلط ہے کیونکہ اس میں التباس کا دخل زیادہ ہو گا اور حقیقت اور صداقت کا کم ۔ انسان کے لیے بہترین طرز عمل یہی ہے کہ وہ سائنس کو اپنا نظریۂ حیات بنائے اور آہستہ آہستہ مشاہدات اور تجربات کو جمع کرتا جائے اور ان کی بنا پر ادھورے نظریے اور عارضی طور پر صحیح مفروضے بناتا چلا جائے۔ یہی ایک نجات کا راستہ ہے باقی رہا عام انسان تو وہ ابھی اس قدر ابتدائی حالت میں ہے کہ اس سے صحیح تصعید کی توقع رکھنا غلط ہے۔ سائنس کو نظریۂ حیات تو بنا لیا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں بھی فرائیڈ سائنس سے مراد طبیعات اور کیمیا ہی لیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ تصور سائنس میں معاشرتی علوم کو بھی شامل کرے تو کوئی نہ کوئی نظریۂ حیات استخراج ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ نفسیات میں مشاہدہ کی بنیاد کیا ہے؟ اس مشاہدہ کی سب سے لازمی صفت ہمدردی اور شاہد پر اعتماد ہے۔ علم اور مذہبی واردات میں کیا خوب لکھا ہے۔مذہب نہ تو فقط احساس ہے اور نہ ہی فقط خیال اور عمل بلکہ انسان کا مکمل اظہار ہے۔ عقل اور وجدان ایک ہی سرچشمہ سے ابھرتے ہیں‘ عقل حقیقت کو زمان و مکاں میں ڈھونڈتی ہے اور وجدان کی نگاہ دائمی حقیقت پر مرکوز ہوتی ہے۔ ایک حقیقت کو پارہ پارہ کر کے ہر پہلو کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیتی ہے۔ وجدان حال میں پوری حقیقت سے نشاط اندوز ہوتا ہے۔ دونوں کو اپنے احیاء کے لیے ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ بقول برگسیاں ’’وجدان عقل کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔‘‘ کانٹ نے اس معاملے میں غلطی کی کہ انھوں نے عقل اور وجدان میں خلیج حائل کی۔ خیال کے متعلق یہ کہنا کہ اس کی رسائی صرف محدود اشیاء تک ہوتی ہے اور وہ لامحدود کو نہیں پہنچ سکتا۔ یہ خیال کے متعلق ایک غلط فہمی ہے۔ اپنی گہری حرکت میں خیال’’ایک سریانی لامحدود‘‘ تک پہنچتا ہے جس کے خودارادی اظہار میں محدود تصورات محض چند لمحے بن جاتے ہیں۔ یہ کہنا زیادہ بجا ہو گا کہ محدود کے وجود ہی سے وہ علم ممکن ہے۔ تعلیم ہی سب کچھ ہے ۔ ڈاکٹر اجمل مضمون باندھتے ہیں۔یہ امر عرصہ سے مفکرین کے درمیان زیر بحث ہے کہ تعلیم کا دراصل مقصد کیا ہے؟ کیا ہم ایک بہتر طرز زندگی کی تخلیق چاہتے ہیں؟ یا ہمارے پاس احکام کا کوئی منشور موجود ہے جس پر ہم طلباء سے عملدرآمد کرانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ان کی قوت ارادی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اہلیت کے ساتھ کام کرنے کے قابل بن جائیں یا ہم آگہی کی دمک میں مکمل شخصیت کاارتقا چاہتے ہیں؟گوئٹے (Goethe) اور شلر کے درمیان مشہور خط وکتابت میں ان نکات پر بھی بحث ہوئی ہے۔ شلر (Sehiller) کا انداز فکر جمالیاتی ہے۔ تعلیم سے محض شخصیت کی دلربائی اور حسن چاہتا تھا۔ گوئٹے‘ جسے خود اپنی روح کے اندر کے اہرمن کاسامنا کرنا پڑتا تھا۔ ایک تعلیم یافتہ شخص سے حسن اور قوت ارادی کے امتزاج کا طالب تھا اصل اہمیت ’’کیسے‘‘ کی ہے صرف ’’کیا‘‘ کی نہیں۔ میں کیا کہہ رہا ہوںکہ نسبت میں کیسے کہہ رہا ہوں‘ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دوران گفتگو میں لڑکھڑا جاؤں تو دھیما لہجہ اور دبے ہوئے ’’اگر‘‘ اور ’’مگر ‘‘ زور دار آواز میں ادا کیے ہوئے الفاظ سے عموماً زیادہ معنی خیز ہوتے ہیں۔ ’’کیا‘‘ اسی وقت اہمیت حاصل کر سکتا ہے جب اسے ذاتی سیاق و سباق سے حاصل کیا جائے۔ وہ لوگ جو ’’کیسے‘‘ پر زور دیتے ہیں‘ غیر ضروری ’’کیوں ‘‘ کے خلاف ہیں۔ تقدیر اور ذمے داری:فکر کی تاریخ میں واحد الوجود کے نظریے کو ہیگل سے زیادہ کسی نے تقویت نہیں دی۔ اور یہ اسی کی لگائی ہوئی بیل تھی‘ جس کو انگلستان میں گرین اور بریڈلے نے منڈھے چڑھایا۔ اس نظریے کا لب لباب یہ ہے کہ کثرت میں وحدت ہے۔ دنیا کا تنوع ایک ہی قسم کے مختلف پہلوؤں سے بنتا ہے۔ یہ جو ہمیں قدم قدم پر بوقلمونی نظر آتی ہے اور ہر نگاہ میں ایک نیا جلوہ پیدا ہوتا ہے ‘ ان میں علیحدہ علیحدہ حقیقت تو ہے‘ مگر تھوڑی‘ پوری اور دائمی حقیقت ’’قطعی‘‘ کی ہے۔ ان چھوٹی موٹی‘ دیکھنے سننے کی چیزوں میں نہیں ۔ اس نظریے کا ایک فوری نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی انفرادیت خدا کی ہستی میں سما جاتی ہے اور اس کی نیکی اور گناہ کی ذمے داری بھی خدا کی ذمے داری بن جاتی ہے۔ ولیم جیمز ’’جبریت‘‘ اور ’’وحدت الوجود‘‘ میں کوئی فرق نہیں کرتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ دونوں نظریے ایک ہی طرح انسان کی ذمے داری کو ختم کر دیتے ہیں‘ اس نے جبریت کے خلاف ایک ‘‘دوبدھا‘ تراشی ہے۔ قومی تشخص اور ثقافت:ہمارے ہاں اکثر باتیں تجریدی سطح پر ہوتی ہیں۔ یہ جو ایک سوال اٹھا تھا کہ ہمارے ہاں (Exclude) کرنے کی عادت کیوں ہے یعنی فلاں مجھ سے اتفاق نہیں کرتا یا تھوڑا سا اختلاف رکھتا ہے۔ اس لیے (Excluded) ہے‘ جیسے یہ اشفاق صاحب نے کہا تھا کہ مجھے اعلان کر دینا چاہیے کہ آدھا تیتر آدھا بیٹر ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ہم سب ہیں۔ یہ اعلان اس لیے نہیں ہو سکتا کہ ابھی تک ذہن صاف نہیں ہوئے ابھی تک زمین میں پیوست ہو کے آسمان تک پہنچنے والی بات پیدا نہیں ہوئی۔ اس وقت ہماری ثقافت کو اس کیفیت کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے ہماری ثقافت میں مختلف علامتوں کی ضرورت ہے‘ ہماری ثقافت کو اسلامی نقطہ نظر کی، مولانا جلال الدین رومیؒ کے نقطہ نظر کی، میں سمجھتا ہوں ضرورت ہے بچے کی علامت کی۔ یہ (Future) اور اس کے ساتھ امیدوں سے تعلق کا معاملہ ہے۔ پھر بچے کی علامت کے علاوہ ہم خاص طور پر یہ بھی دیکھیں گے کہ یہ جو اصناف کا فرق ہے ہم اسے کس طریقے سے دیکھتے ہیں‘ یہ کیسے ہماری ثقافت پر اثر انداز ہو رہا ہے؟ یہ ساری باتیں اسی صورت ممکن ہیں کہ ان سوالوں کے جوابات کو شعوری طور پر اپنے ذہن میں رکھیں اور اپنے ملک سے اور اس کے لوگوں سے آگہی پیدا کریں۔ کمال کتاب ہے۔ موضوعات ‘ خیال‘ وجدان اور حد درجہ مشکل نکات پر لکھی گئی ایک حد درجہ قیمتی کوشش ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل