Monday, January 26, 2026
 

ایمان مزاری کی سزا پر ایچ آر سی پی کا احتجاج، پریس کلب کے اطراف سڑکیں بند، پولیس تعینات

 



وکلا ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کی سزا کے خلاف ایچ آر سی پی کی احتجاجی کال پر پولیس نے کراچی پریس کلب کے اطراف راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا، مظاہرے کو پولیس کی بھاری نفری نے گھیرلیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آفس پاکستان کے احتجاج کے پیش نظر کراچی پریس کلب، فوارہ چوک، وائے ایم سی اے، سرور شہید روڈ ، زینب مارکیٹ کٹ سمیت اطراف میں بسیں اور کینٹنرز لگادیے گئے۔ پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔اطراف کے راستوں کی بندش کی وجہ سے صحافیوں، مختلف اداروں میں کام کرنے والے افراد کو آمدورفت میں مشکلات پیش آئیں۔ پولیس نے پریس کلب کے تین اطراف مقامات کو بند کرکے صرف وائی ایم سی اے ایک چھوٹا راستہ کھولا ہوا تھا جس کی وجہ سے صحافیوں، ورکرز اور رہائشیوں کو شدید مشکلات ہوئیں، کئی صحافی پریس کلب آنہیں سکے اور جو پریس کلب میں موجود تھے وہ کئی گھنٹوں تک وہیں رہے۔ پریس کلب کے راستوں کی بندش کی وجہ سے لوگ جگہ جگہ راستہ کھلا ہونے کا پوچھتے نظر آئے۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے کہا کہ پریس کلب کے اطراف راستوں کی بندش کی وجہ سے میڈیا پرسنز کو مشکلات ہوئیں، حکومت نے چاروں طرف راستے بند کردیے جبکہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ جب بھی ایسی صورتحال ہوگی تو ایک راستہ کھلا رکھا جائے گا لیکن راستے بند کرنا غلط عمل ہے سندھ حکومت نوٹس لے۔ ایچ آر سی پی کے کراچی پریس کلب کے باہر ہوئے مظاہرے کو پولیس کی بھاری نفری نے گھیرلیا۔ پولیس کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے ایسا ماحول  پیدا ہوگیا کہ کسی بھی وقت پولیس مظاہرین کو ممکنہ طور پر گرفتار کرلے گی۔ مظاہرے کے دوران پولیس کی نفری قریب آگئی اس دوران پولیس افسران اور مظاہرے کی قیادت میں بات چیت ہوئی۔ پولیس حکام کہتے رہے کہ مظاہرہ جلد ختم کیا جائے۔ ایچ آر سی کے چیئرمین اسد بٹ نے میڈیا کو بتایا کہ مظاہرہ کرنا کون سا جرم ہے؟ کراچی  پریس کلب آزادی اظہار رائے کی جگہ ہے، پولیس کی اتنی نفری کیوں آئی ہے؟ راستوں کی بندش کی وجہ سے ہمارے لوگ پہنچ نہیں سکے، پولیس کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ہمیں گرفتار کرنے آئے ہیں، یہ جمہوری حکومت ہے کیا جس میں ہم اپنی بات بھی نہیں کرسکتے؟ بعدازاں مظاہرہ ختم ہونے کے بعد شرکاء چلے گئے تاہم پولیس مظاہرے کے کئی گھنٹے بعد تک تعینات رہی اور راستے بند رہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل