Monday, January 26, 2026
 

امریکی پالیسیاں اور عالمی بے یقینی

 



امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن گرین لینڈ کے ان علاقوں پر اپنی خود مختاری نافذ کردے گا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کی یہ نئی دھمکی ٹرمپ انتظامیہ اور یورپ جیسے روایتی اتحادیوں کے درمیان دشمنی پر مبنی ہفتے کے اختتام کے بعد آئی ہے، جب کہ صدر ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا کہ وینز ویلا سے حاصل کیے گئے اس تیل کو اب امریکی ریفائنریز میں صاف کیا جائے گا۔ دوسری جانب برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت کو یہ خوف لاحق ہے کہ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، جب کہ اسرائیلی اخبار کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر ناکہ بندی آپشن اختیار کرسکتا ہے۔  عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے غیر یقینی، بے ربط اور تیزی سے بدلتے ہوئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت، معیشت، سفارت کاری اور عسکری دباؤ کے درمیان موجود توازن بری طرح متزلزل ہو چکا ہے۔ اس تبدیلی کے مرکز میں ایک بار پھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں، بیانات اور اقدامات نمایاں نظر آتے ہیں، جو نہ صرف امریکا کے دیرینہ حریفوں بلکہ اس کے قریبی اتحادیوں کے لیے بھی تشویش، بے اعتمادی اور اضطراب کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ وینز ویلا سے تیل کے حصول کا اعلان ہو، غزہ کے لیے مجوزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل، ایران کے خلاف ممکنہ معاشی و بحری ناکہ بندی، امریکی ڈالر پر عالمی اعتماد کی کمزوری یا پھر چین کا خاموش مگر مؤثر سفارتی ابھار، یہ تمام واقعات دراصل ایک ہی بڑے عالمی بحران کی مختلف شکلیں ہیں، جو اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ دنیا تیزی سے ایک نئے مگر غیر مستحکم عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔  صدر ٹرمپ کی جانب سے وینز ویلا میں کی گئی حالیہ فوجی کارروائی کے بعد وہاں کے قبضے میں لیے گئے آئل ٹینکروں سے تیل حاصل کر کے امریکا لانے کا اعلان محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک گہری علامت ہے۔ یہ اعلان دراصل طاقتور ریاستوں کے اس پرانے تصور کی یاد دہانی ہے جس کے تحت طاقت کو حق پر فوقیت دی جاتی ہے۔ بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری جیسے اصول اسی لیے وضع کیے گئے تھے کہ دنیا طاقت کے جنگل میں تبدیل نہ ہو جائے، مگر جب خود عالمی نظام کی سب سے بڑی طاقت ایسے اقدامات کرے تو پھر ان اصولوں کی معنویت خود بخود کمزور پڑنے لگتی ہے۔ وینز ویلا پہلے ہی شدید معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور طویل پابندیوں کی زد میں ہے، ایسے میں اس کے قدرتی وسائل کو فوجی دباؤ کے تحت استعمال کرنا اس ملک کے عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور یورپ کے درمیان تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں۔ یورپی ممالک، جو ماضی میں امریکا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے، اب ٹرمپ انتظامیہ کی یکطرفہ پالیسیوں، نیٹو سے متعلق بیانات، ٹیرف وار اور سفارتی بد تہذیبی سے سخت نالاں ہیں۔ وینزویلا کا معاملہ اس خلیج کو مزید گہرا کر سکتا ہے، کیونکہ یورپ عمومی طور پر اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ عالمی مسائل کا حل مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے، نہ کہ طاقت اور جبر کے ذریعے۔ اس تناظر میں امریکا کا یہ طرزِ عمل اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ واشنگٹن اب شراکت داری کے بجائے بالادستی اور دباؤ کی سیاست کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسی عالمی بے یقینی کے ماحول میں غزہ کے لیے مجوزہ بورڈ آف پیس کا قیام ایک اہم مگر متنازع قدم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس بورڈ کا بظاہر مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو قائم رکھنا اور غزہ کی تعمیر نو کے دوران ایک عبوری حکومت یا انتظامی ڈھانچے کی نگرانی کرنا ہے۔ کاغذ پر یہ منصوبہ امید افزا دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقائق اور سیاسی محرکات اس کی پیچیدگیوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس بورڈ میں شمولیت کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک اس عمل میں فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تاہم اس شمولیت کے ساتھ ساتھ کئی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔  برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارت اس بورڈ میں شمولیت کے حوالے سے شدید تذبذب کا شکار ہے۔ بھارت کو خدشہ لاحق ہے کہ اگر وہ اس فورم کا حصہ بنا تو مستقبل میں صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی اسی یا کسی ملتے جلتے عالمی پلیٹ فارم پر لا سکتے ہیں۔ یہ خدشہ بے بنیاد نہیں، کیونکہ صدر ٹرمپ ماضی میں کئی بار کشمیر کو ایک متنازع خطہ قرار دے چکے ہیں اور ثالثی کی پیشکش بھی کر چکے ہیں، جسے بھارت نے سختی سے مسترد کیا تھا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس اصول پر قائم رہی ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے، اور وہ کسی بھی بین الاقوامی فورم پر اس بحث کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھارت کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی آزمائش بن چکا ہے۔ ایک طرف وہ امریکا کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، دوسری طرف وہ کسی ایسے عالمی عمل سے بھی دور رہنا چاہتا ہے جو اس کے داخلی معاملات کو بین الاقوامی بحث کا موضوع بنا دے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دن گزرنے کے باوجود بھارت کی جانب سے اس دعوت پر کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔ یہ خاموشی دراصل بھارت کی خارجہ پالیسی کی الجھنوں اور خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس کی دستاویز پر 59 ممالک کے دستخط اور ڈیووس میں 19 ممالک کی نمائندگی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری اس تنازع کے حل میں کسی نہ کسی حد تک سنجیدہ نظر آتی ہے۔ تاہم اس فورم کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ واقعی غیر جانبدار، شفاف اور انصاف پر مبنی کردار ادا کر پاتا ہے یا پھر یہ بھی ماضی کے کئی عالمی منصوبوں کی طرح بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتا ہے۔ اگر یہ بورڈ محض طاقتور ریاستوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن گیا تو نہ صرف اس کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ خطے میں امن کی امیدیں بھی مزید کمزور پڑ جائیں گی۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور اہم تشویشناک پیش رفت ایران کے حوالے سے سامنے آ رہی ہے۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف براہِ راست عسکری حملے کے بجائے معاشی اور بحری ناکہ بندی جیسے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی ٹرمپ انتظامیہ کے اس عمومی رجحان سے مطابقت رکھتی ہے جس میں براہِ راست جنگ سے گریز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خطے میں امریکی فوجی موجودگی واشنگٹن کو کئی متبادل راستے فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود صورتحال مکمل طور پر قابو میں نظر نہیں آتی۔ ایران پہلے ہی سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اور اگر بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات کیے گئے تو اس کے اثرات نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی تیل کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خلیج میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور توانائی کے تحفظ پر پڑتا ہے۔ سابق اسرائیلی قومی سلامتی مشیر کا یہ بیان کہ اگر ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل سخت جواب دے گا، اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ ایک بار پھر کسی بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ جنگ ناگزیر نہیں، مگر موجودہ حالات میں کسی بھی غلط اندازے یا اشتعال انگیزی کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔  اسی دوران صدر ٹرمپ کی غیر متوقع، جارحانہ اور بعض اوقات افراتفری پیدا کرنے والی خارجہ پالیسیوں نے امریکا کے روایتی اتحادیوں کو متبادل استحکام کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ یورپ، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک، جو ماضی میں واشنگٹن کو عالمی نظام کا ضامن سمجھتے تھے، اب اسے ایک غیر یقینی اور ناقابلِ اعتبار شراکت دار کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ ایسے میں درمیانی طاقتوں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ وقت نہایت اہم ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے دانش مندی، اصولوں اور طویل المدتی قومی مفادات کو سامنے رکھ کر اپنی خارجہ پالیسی ترتیب دیں۔ طاقت کے اس نئے عالمی کھیل میں وہی اقوام کامیاب ہوں گی جو معاشی خود کفالت، علاقائی تعاون اور متوازن سفارت کاری کو اپنی ترجیح بنائیں گی۔ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عالمی رہنما طاقت اور دباؤ کی سیاست کے بجائے مکالمے، تعاون اور اعتماد سازی کو فروغ دیں، کیونکہ تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ طاقت کے زور پر قائم ہونے والا نظام دیرپا نہیں ہوتا۔ موجودہ منظرنامہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے اپنی پالیسیوں میں ذمے داری، برداشت اور تعاون کو جگہ نہ دی تو آنے والے برس دنیا کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل