Monday, January 26, 2026
 

کراچی : پلازہ نہیں ہماری اقدارگل ہوگئی ہیں

 



ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ حکومت کی غفلت سے گلُ پلازہ،گلُ ہوگیا، میں کہتا ہوں گل پلازہ ،گلُ نہیں ہوا، ہماری اقدارگلُ ہوگئی ہیں اور یہ اقدار ایک فرد سے لے کے حکومت تک تمام جگہ ہی دم توڑ گئی ہیں۔ ذرا غور کیجیے، اس سانحے میں کس کس کی غفلت شامل ہے؟ 1۔ حکومت 2 ۔ ادارے 3۔ پلازہ کی یونین 4۔ دکاندار 5۔ ہمارے رہنما۔ آیے! اب ان سب کا ایک ایک کر کے جائزہ لیں۔ 1۔ حکومت کا کام ہوتا ہے کہ وہ اداروں پر نظر رکھے، ان کی کارکردگی کو بہتر بنائے اور انھیں جدید سہولیات سے آراستہ کرے اور لوگوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کرے لیکن اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے، حکومت نے اپنے فرائض سے غفلت بڑھتی یعنی اتنے بڑے شہر میں وہ ابھی تک کوئی جدید فائر سسٹم اور سہولیات متعارف نہیں کراسکی نہ ہی ایسے ہنگامی اقدامات سے نمٹنے والے اداروں کو بہتر بنا سکی۔ حد تو یہ ہے کہ پانی اور پٹرول کی بھی سہولیات ان اداروں کو حاصل نہیں تو ایسے میں وہ کسی ناگہانی صورتحال میں کیسے بہتر کاردگی دکھا سکتے ہیں؟ دنیا بھر میں فائر ٹینڈر اور دیگر ایسے اداروں کو جس قدر جدید آلات حاصل ہیں اور ان کے جس قدر تربیت یافتہ کارکن ہیں ہمارے ہاں اس کا آدھا بھی نہیں، اس لحاظ سے صرف یہ حادثہ نہیں، اس سے پہلے کے حادثات ہوں یا آیندہ مستقبل میں آنے والے حادثات، ان سب کی ایک بڑی ذمے داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اب سے کچھ برسوں پہلے جب اسلام آباد میں مارگلہ پلازہ زمین بوس ہوا تھا تو ملبے میں دبے لوگوں کو بیرون ملک کے امدادی کارکن اپنے آلات لے کر آئے تھے جس کی مدد سے انھوں نے کئی روز سے دبے لوگوں کو زندہ بھی نکالا تھا۔ ان کے پاس ایسے آلات تھے جن کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا تھا کہ ملبے کے اندر کونسی جگہ کوئی جاندار موجود ہے جس کی سانسیں چل رہی ہیں، پھر نشاندھی کے بعد ایک ہول کرتے ہوئے متاثرہ فرد کو نکالا جاتا ہے، اسلام آباد میں بھی ایسا ہی کیا گیا تو کئی جانیں سلامت نکال لی گئی تھیں۔ مسئلہ تو یہی ہے کہ حکمرانوں کی اقدار اس قدر گرچکی ہیں کہ وہ عوام کو انسان ہی نہیں سمجھتے، عوام سے پیسہ نچوڑنا ہو تو ای کیمرے لگا کر چار، پانچ انچ کی نمبر پلٹ سے بھی پورے شہرکو جرمانے کر کے کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں مگر عوام کی جان کا معاملہ ہو تو نہ گٹر کا ڈھکن نظر آتا ہے نہ ہی پٹرول اور پانی سے خالی فائر ٹینڈرڈ۔ 2۔ (SBCA) اور دیگر ادارے اور یونین، ان سب کا کردار کہاں ہے؟ انھوں نے اپنی اپنی ذمے داریاں ادا کیوں نہیں کیں؟ اس حادثے میں بھی اگر ہم دیکھیں تو جو ادارے حادثات سے نمٹنے کے لیے ہیں ان کی تیاری، ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہیں یہاں تک کہ ان کے کارکن کارروائی کے دوران خود اپنی جان گنوا بیٹھے، حالانکہ ادارہ اتنا مضبوط ہونا چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کی جان بچاتے۔ اگر ادارے کے سربراہ اپنے ادارے کو منظم اور مضبوط بناتے تو خود ان کے فائر مین یوں ہلاک نہ ہوتے بلکہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ جان بچانے میں کامیاب ہوتے، ان کے پاس پانی اور پٹرول کی کمی نہ ہوتی۔ 3۔ اسی طرح حادثے میں جو پلازہ تباہ ہوا ہے اس کی یونین کا احوال دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ چندہ تو باقاعدگی سے لیا جا رہا تھا مگر انھوں نے اپنے طور پہ حادثے سے بچاؤ کے لیے جو آلات لازمی ہوتے ہیں وہ بھی نہیں رکھے ہوئے تھے مزید یہ کہ راستے اس قدر تنگ تھے کہ وہاں سے آمدورفت بھی آسان نہ تھی تو پھر ایمرجنسی میں لوگ وہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ کیسے پاتے؟ دکانوں کی تعداد بڑھانا اور ان کے آگے مزید کاؤنٹر وغیرہ قائم کر کے راستے تنگ کر دینا اور ضرورت سے زیادہ بجلی کے تاروں پہ لوڈ ڈال دینا یہ سب کام روکنا اور ان کو درست کرنا ظاہر ہے کہ یہاں کی انتظامیہ یا یونین کو ہی کرنا چاہیے تھا گویا اس نے بھی اپنی ذمے داری نہیں نبھائی بلکہ صرف چندہ وصولی پر توجہ دی۔ 4۔ دکاندار بھی وہاں پر جس طرح سے صبح سے شام وقت گزارتے تھے، وہ بھی اس طرف توجہ نہیں دیتے تھے کہ قانوناً وہ کتنا لوڈ استعمال کرسکتے ہیں؟ کتنی جگہ استعمال کرسکتے ہیں؟ سب ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہے تھے۔ 5۔ اب آئیے، اس صورتحال کی طرف جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ سب صبح شام ہمارے سامنے ہے اور شہر کراچی میں اس قسم کی ایک بلڈنگ نہیں بلڈنگوں کا جنگل ہے جو رہائشی بھی ہیں اور تجارتی بھی، اس صورتحال کو کوئی سمجھ رہا ہے؟ یہ ہمارے نمائندوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں سوچیں کہ اس شہر کی کیا کیا ضرورتیں ہیں؟ اور کیا کیا اہم کام ہیں جو انجام دینے چاہیے اور پھر اگر حکومت اس کو انجام نہ دے تو منتخب نمائندوں کو توجہ دلانی چاہیے اور رہنماؤں کو اس پہ بات کرنی چاہیے تاکہ عوام کو سہولیات ملے، مگر افسوس کسی کا دھیان اس طرف نہیں سب اپنے اپنے دھندے میں لگے ہوئے ہیں۔ گویا ہم سب اپنے فرائض بھول گئے اپنی سوشل ویلیوز (سماجی اقدار) بھول گئے۔ ہم سب اپنی اپنی انفرادی زندگی میں، انفرادی معاملات اور فائدے کو ہی بغور دیکھتے ہیں اور اسی میں مگن رہتے ہیں ہمیں اپنے ارد گرد کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ ہم سب اپنے اپنے مالی مفادات پر ہی توجہ دینے لگے۔ حکومت میں شامل لوگ اپنی سہولیات دیکھتے ہیں، اپنے لیے بلٹ پروف گاڑیاں منگانے کی فکر، اپنے لیے ہیلی کاپٹر بھی ضرورت سمجھا جاتا ہے، سوال یہ کہ کیا حادثات میں پھنسے لوگوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز کی ضرورت نہیں؟ کہیں نظروں کے سامنے پورے کے پورے خاندان سیلابی ریلے میں بہہ جاتے ہیں، کہیں کوئی جوان کراچی شہر میں بلڈنگ میں لٹکا موت اور زندگی کی کشمکش میں انتظار کرتا رہ جاتا ہے مگر کوئی مدد نہیں کرسکتا، سارے ایمرجنسی کے ادارے ناکام رہتے ہیں۔ راقم نے اپنے کالموں میں لکھا ہے کہ شہرکراچی میں صرف نئی نہیں، پرانی عمارتوں کا بھی ایک بڑا جنگل موجود ہے جو خستہ حال ہوچکا ہے اور زلزلے کے کسی خطرناک جھٹکے سے، کہیں بھی حادثات ہوسکتے ہیں، لٰہذا ان تمام کی نشاندہی کرکے ان سب کی ازسر نو تعمیرکی جائے۔ گل پلازہ میں بھی سب نے دیکھا کہ کس طرح جلتی ہوئی ایک عمارت ایک طرف سے ایسے زمین بوس ہوگئی جیسے بارود سے اس کو اڑایا گیا ہو، یعنی یہ بلڈنگ خود اپنا وزن بھی بر داشت نہ کر سکی۔ آخر ہماری حکومتیں، ادارے اور رہنما وغیرہ اس اہم مسئلے کو مسئلہ کیوں نہیں سمجھتے؟ کیا ہماری نظر میں اب انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں رہی؟ پہلے کہیں ایک موت ہوتی تھی تو پورا محلہ سوگوار ہو جاتا تھا، اب ہم ایک حادثے کے بعد دوسرے حادثے کا انتظار کرتے ہیں۔ این جی اوزکے کارکن گل پلازہ کے زخمیوں کو اپنی اپنی ایمبولینس میں لے جانے کے لیے کھینچا تانی کرکے زخمیوں کو اور تکلیف پہنچا رہے تھے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ یہ سب کیا ہے؟یہ سب آخر کیوں؟ کیا ہماری انسانیت بھی ہماری سماجی اقدار کے ساتھ مرگئی ہے؟ یہ ہماری سماجی اقدار نہیں ہے ہماری اقدار کبھی ایسی نہ تھی یہ شہر کبھی ایسا نہ تھا۔ دراصل پلازہ گل نہیں ہوا، ہماری اقدارگلُ ہو گئی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل