Tuesday, January 27, 2026
 

سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے یا حج پر جانے کی خبروں پر ترجمان قومی اسمبلی کا بیان سامنے آگیا

 



ترجمان قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے یا حج پر جانے سے متعلق شائع ہونے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں اور نہ ہی یہ سہولت دی جا سکتی ہے۔ ترجمان قومی اسمبلی نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ قومی اسمبلی میں نومبر 2016 میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت ہر سال قومی اسمبلی کے ممبران کا ایک وفد ذاتی خرچ پر 12 ربیع الاول کو روزہ رسول ﷺپر حاضری دیتا ہے۔ قرار داد کی روشنی میں وفد کے تمام ممبران اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں، ایس او پیز کے تحت وزارت مذہبی امور صرف انتظامی امور کے لیے سہولت فراہم کرتی ہے جس کے تحت وزارت بھی کوئی اخراجات برداشت نہیں کرتی۔ سرکاری خرچ پر کسی بھی ایسے دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن کسی ایسی تجویز کی منظوری نہیں دی گئی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل