Sunday, February 01, 2026
 

مجموعی عوامی قرضے کے حوالے سے ڈیٹ پالیسی اسٹیٹمنٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

 



پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ گزشتہ مالی سال کے دوران پارلیمان کی جانب سے مقررکردہ قانونی حد سے تقریباً 17 کھرب روپے تجاوز کر گیا، تاہم حکومت نے دعویٰ کیا کہ گھریلوقرضوں کی مدت میں توسیع کرکے ری فنانسنگ کے خطرات کو کم کردیا گیا۔ ڈیٹ پالیسی اسٹیٹمنٹ 2026 کے مطابق عوامی قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے 70.7 فیصد تک پہنچ چکا ہے،جبکہ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (FRDLA) کے تحت مقررہ حد 56 فیصد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران قرضہ قانونی حد سے 16.8کھرب روپے یا جی ڈی پی کے 14.7 فیصد زائد رہا۔ رپورٹ کے مطابق بلند اورغیر پائیدارقرضوں کی وجہ سے سالانہ بجٹ کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، جس کے باعث عوام پر اضافی ٹیکس بوجھ بڑھتا جا رہا ہے،ج بکہ فیڈرل بورڈآف ریونیو بھی نظرثانی شدہ ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جولائی تاجنوری کے دوران ایف بی آر نے 7.174 کھرب روپے وصول کیے، جو ہدف سے 347 ارب روپے کم ہیں۔ محصولات میں سالانہ بنیادوں پر محض 10.5 فیصد اضافہ ہواہے۔ وزارتِ خزانہ نے پارلیمان کو آگاہ کیا کہ مالی سال 2025 کے دوران قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی شرح میں اضافہ ہوا، تاہم حکومت درمیانی مدت میں قرضوں کو پائیدارسطح پر لانے کیلیے مالیاتی استحکام اور بنیادی سرپلس حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل کریگی۔ فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ 2026 کے مطابق وفاقی مالیاتی خسارہ بھی پارلیمان کی مقررحدسے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد زیادہ رہا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق نئی قرضہ مینجمنٹ حکمتِ عملی کے تحت درمیانی اور طویل المدتی بانڈز، زیروکوپن بانڈز اور سکوک کے اجرا میں اضافہ کیا گیا،جبکہ قلیل مدتی ٹریژری بلز کا حصہ جون 2024 کے 24 فیصد کم ہو کر جون 2025 میں 16.6 فیصد رہ گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل