Loading
نئی دہلی: امریکا میں جاری تحقیقات کے باعث بھارتی صنعتکار گوتم اڈانی اور ان کے گروپ کو درپیش قانونی مسائل ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جس سے بھارت کی حکومت کو سفارتی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں ہونے والی تحقیقات میں اڈانی گروپ پر تقریباً 250 ملین ڈالر کی مبینہ رشوت خوری اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عالمی جریدے بلومبرگ کے مطابق اڈانی گروپ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے امریکا میں رشوت خوری، فراڈ اور سیکیورٹیز قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے مقدمات کی زد میں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے طویل عرصے تک اڈانی اور ان کے قریبی رشتہ داروں کو امریکی قانونی کارروائی سے بچانے کی کوششیں کیں، تاہم امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے تحقیقات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ بھی اڈانی گروپ پر مالی ہیرا پھیری، فراڈ اور بدانتظامی کے الزامات عائد کر چکی ہے۔ عالمی جریدے کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو اڈانی گروپ کو بھاری جرمانوں اور ممکنہ قید کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی صحافی وینود چند کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے براہِ راست سمن جاری ہونے کے بعد اڈانی گروپ نے کیس نمٹانے کے لیے سیٹلمنٹ کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی سیٹلمنٹ کو بعض صورتوں میں اعترافِ جرم کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں جاری اڈانی کیس نے بھارتی حکومت اور بڑے کاروباری گروپس کے تعلقات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں اور اس پیش رفت نے بھارت کے عالمی اقتصادی دعوؤں پر بھی اثر ڈالا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل