Loading
غزہ: اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی بتائی جا رہی ہے۔
فلسطینی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق یہ حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ صبح کے وقت سے جاری حملوں کے بعد ہوا۔ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں اور ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں انسانی المیہ پیدا ہوا۔
غزہ شہر کے رمال علاقے میں ایک رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ ایک متاثرہ خاندان کے رکن نے بتایا کہ تین بچیاں نیند کی حالت میں جاں بحق ہو گئیں اور ان کی لاشیں سڑک پر ملی ہیں۔
غزہ کے شیخ رضوان علاقے میں پولیس اسٹیشن پر ہونے والے حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق حملے کے وقت عمارت میں عام شہری بھی موجود تھے۔
ادھر جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں قائم ایک پناہ گاہ پر بھی اسرائیلی حملہ کیا گیا، جہاں ہزاروں بے گھر فلسطینی خیموں میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حملے میں جانی نقصان کی حتمی تعداد تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے جمعے کے روز رفح میں ایک مبینہ واقعے کے ردعمل میں کیے گئے، جسے اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسرائیل کے مطابق حملوں میں حماس اور اسلامی جہاد سے وابستہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب حماس نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں سنگین جنگی جرم قرار دیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 509 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اسرائیل نے رفح بارڈر کو محدود آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے، جو جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اہم حصہ ہے۔ مصر نے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل