Sunday, February 01, 2026
 

خونیں دہشت گردی، وادیِ تیراہ کا بحران اور موسمِ بسنت

 



باجوڑ تا گوادر جو تازہ ترین منظر نامہ ہمارے پیشِ نگاہ ہے، اِس نے ہر محبِ وطن پاکستانی کو پریشان کررکھا ہے ۔ وادیِ تیراہ( کے پی کے) اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نئی پریشان کن صورتحال ہے ۔ وادیِ تیراہ میں برفباری کے طوفانوں میں نقل مکانی اور نئے مبینہ آئی ڈی پیز نے واقعی معنوں میں صوبائی حکومت کے لیے نیا بحران پیدا کر رکھا ہے ۔ اِس بحران سے وفاقی حکومت بھی کم پریشان نہیں ہے ۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو دنوں کے دوران دو مختلف جرگے اور جلسے منعقد ہو چکے ہیں ۔ دونوں کے الگ الگ ایجنڈے اور (ناقابلِ فہم) عزائم سامنے آئے ہیں ۔ اسلام آباد /راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے مبینہ مسائل نے الگ منظر باندھ رکھا ہے ۔ پی ٹی آئی کے عشاق اپنے لیڈر سے ملاقات کے لیے بے تاب نظر آ رہے ہیں ۔ اُدھر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پچھلے دو بد قسمت ایام کے دوران خوں آشام دہشت گردوں نے خونریز قیامت بپا کیے رکھی ۔ اِن دو ایام کے دوران مبینہ طور پر100سے زائد دہشت گردوں ، فتنہ الہندوستان اور الخوارج کو جہنم واصل کیے جانے کی اطلاعات ہیں ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی اِن نئی خونی وارداتوں میں20کے قریب ہماری سیکورٹی فورسز اور بلوچ شہریوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا ہے ۔ ایسی پریشان کن صورتحال میں ، فروری کے طلوع ہوتے ہی، پنجاب ( خصوصاً لاہور میں) موسمِ بسنت کا آغاز ہُوا چاہتا ہے ۔ اِس ’’دلیری‘‘ اور ’’زندہ دِلی‘‘ کو’’ سلام‘‘ ۔فروری کو موسمِ بہار کا آغاز بھی کہا جاتا ہے ۔ وہی بدلتا موسمِ بہار جس کے بارے شاعر ظہیر کاشمیری نے کہا تھا: موسم بدلا ، رُت گدرائی ، اہلِ جنوں بے باک ہُوئے/ فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہُوئے۔ وادیِ تیراہ اور بلوچستان میں جو خونی اور بحرانی موسم اور منظر پیشِ نگاہ ہے، اِس میں تو واقعی ہم سب کو اپنے اپنے گریباں چاک کر لینے چاہئیں ۔ ماہِ فروری کے پہلے ہفتے پنجاب کی وزیر اعلیٰ، محترمہ مریم نواز شریف ، نے لاہور میں میلہ بسنت منانے کا اعلان کررکھا ہے ۔ محترمہ مریم نواز شریف کا سرکاری سرپرستی میں بسنت منانے کا اعلان معمولی نہیں ہے ۔ اِسے جرأتمندانہ اقدام کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے بسنت کو ایک ممنوعہ کھیل قرار دیا گیا ۔ لاہور کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے محروم ہو چکا تھا ۔ بسنت کا جو دلکشا تہوار تشکیلِ پاکستان سے بھی پہلے کا چلا آ رہا تھا ، یکایک اِس پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں ۔ لاہور اور قصور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں پتنگ سازی کی صنعت بھی ماند پڑ کر تقریباً ختم ہی ہو گئی تھی ۔ اور جب پتنگ بازی کو ’’ہندووانہ کلچر‘‘ کا شاخسانہ قرار دینے کی کوشش کی گئی تو اِس رنگا رنگ تہوار کو مزید گہن لگ گیا ۔ ابھی وہ دن زیادہ دُور نہیں گئے جب پنجاب کی صوبائی حکومت کی سرپرستی میں لاہور میں بسنت منائی جاتی تھی ۔ دُنیا بھر سے لوگ لاہور آتے اور والڈسٹی کی چھتیں مہنگے داموں کرائے پر چڑھتیں ۔ لاہور کے چھوٹے بڑے ہوٹلز سیاحوں سے اَٹ جاتے ۔ متنوع کھانوں کی بھی بہار عروج پر پہنچ جاتی ۔ ایک جشن کا اہتمام ہوتا ۔ بسنت اور پتنگ بازی کے موضوع پر گانے اور موسیقی تخلیق کی گئی ۔ مثال کے طور پر گلوکارہ فریحہ پرویز کا گایا معروف گیت :’’ پتنگ باز سجنا سے، پتنگ باز بلماں سے، آنکھوں آنکھوں سے اُلجھی ڈور کہ دل ہُوا بو کاٹا‘‘ ۔ پھر پتنگ باز سجنا کی ڈور سے کئی جوانوں اور بچوں کے گلے تسلسل سے کٹنے لگے تو چاروناچار حکومت کو اِس کھیل پر پابندیاں ہی عائد کرنا پڑیں کہ انسانوں کی زند گیاں بہر حال پتنگوں سے زیادہ قیمتی ہیں ۔اب بسنت کا تہوار سرکار سرپرستی میں ، دو عشروں بعد، منایا جا رہا ہے ۔ اِس تہوار کے لیے6اور7اور 8ٖفروری کے دن مقرر کیے گئے ہیں ۔ بسنت منانے کیلیے پنجاب حکومت نے پنجاب ریگولیشن آف کائیٹ فلائنگ بِل بھی متعارف کروایا ہے ۔پنجاب کی چیف ایگزیکٹو صاحبہ نے میڈیا سے تفصیلی گفتگو کرتے ہُوئے کائیٹ فلائنگ فیسٹول کی حدود وقیود کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بسنت کے اِس موسم میں ایک خاص تصویر والی پتنگ اُڑانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔  پتنگ بازوں اور پتنگ فروشوں کو مگر اُن تمام شرائط و ضوابط پر پورا اُترنا ہوگا جو شرائط پنجاب حکومت نے مقرر کررکھی ہیں۔ خاص طور پر پتنگ اُڑانے کیلیے ہلاکت خیز دھاتی ڈور کے استعمال سے بالکل لاتعلق رہنا ۔ پتنگ بازوں پر لازم ہے کہ وہ پتنگ بازی سے انجوائے کرتے ہُوئے پنجاب کی وزیر اعلیٰ اور پنجاب کی انتظامیہ کے اعتماد اور اعتبار کو ٹھیس نہ پہنچائیں ۔ بسنت کے یہ تینوں ایام جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب کیلیے نئی طرز کی آزمائش ہیں، وہیں یہ تینوں تاریخیں لاہور انتظامیہ کے اعصاب کا بھی امتحان ہے کہ وہ کس طرح پتنگ باز سجنا پر کڑی نظریں رکھتے ہیں ۔ ویسے گذشتہ ہفتے لاہور میں داتا دربار کے بالمقابل ایک گڑھے میں گر کر جس طرح ایک نوجوان ماں اور اُن کی بیٹی نے جان دی ہے، اِس سانحہ میں لاہور انتظامیہ اور لاہور پولیس نے پورے ملک کو مایوس کیا ہے۔ بسنت کا جب آخری دن ہوگا، اُسی تاریخ کو پی ٹی آئی ملک بھر میں پہیہ جام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ قومی اسمبلی میں نئے نئے مقرر ہونے والے اپوزیشن لیڈر ( اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے مرکزی رہنما) نے بھی اعلان کیا ہے کہ ’’8فروری کو ہم ملک بھر میں پہیہ جام بھی کریں گے اور یومِ سیاہ بھی منائیں گے۔‘‘ 8فروری گویا وزیر اعظم جناب شہباز شریف کے لیے بھی امتحان کا دن ہے ۔ آٹھ فروری کے اعلان میں رنگ بھرنے کے لیے پی ٹی آئی نے تیاریاں بھی خوب کررکھی ہیں ۔جب کہ مرکزی حکومت کی ، بجا طور پر، یہی کوشش ہوگی کہ 8فروری کا دن ناکام ہو جائے ۔ اِس دن کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی بھی کئی کوششیں بروئے کار آئیں گی ۔ اِن کو کاؤنٹر کرنے کیلیے پی ٹی آئی نے بھی منصوبہ بندی کی ہوگی ۔ 8فروری کی’’ ملک گیر‘‘ ہڑتال اور ’’پہیہ جام‘‘ کروانے کیلیے پی ٹی آئی نے بظاہر ابتدائی تیاریاں تو خوب کی ہیں ۔ مثال کے طور پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، جناب سہیل آفریدی، نے پہلے پنجاب پر یلغار کی اور پھر سندھ پر ۔ لاہور میں بھی موصوف نے اپنے کئی ساتھیوں کی معیت میں خوب ’’رونق‘‘ لگائی اور کراچی و حیدر آباد میں بھی ۔ مگر سہیل آفریدی صاحب پنجاب کی انتظامیہ سے بھی ناراض ہی نظر آئے اور سندھ کی انتظامیہ سے بھی ۔ اُن کا اور اُن کے قریبی جیالے ساتھیوں کا خیال ہے کہ محترمہ مریم نواز شریف اور مراد علی شاہ صاحب نے اُن کی توقعات کے ’’عین مطابق‘‘ اُنہیں پروٹوکول دیا نہ اعلیٰ مہمان نوازی سے نوازا ۔ جب کہ دونوں مذکورہ صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ اپنا الگ ہی موقف اپنائے ہُوئے ہے ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا،جناب سہیل آفریدی، لاہور اور کراچی پر یلغاریں کرکے دراصل اپنے تئیں 8فروری کے مبینہ پہیہ جام کیلیے زمین ہموار کر چکے ہیں ۔ اُنہوں نے اپنے اسیر قائد کے مبینہ حکم پر8فروری سے قبل جس ’’اسٹریٹ موومنٹ‘‘ کو متعارف کروایا ، وہ اب پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ آٹھ فروری کے لیے میدان میں اُترے گی ۔ اسیر قائد کی تینوں محترمہ ہمشیرگان نے پچھلے کئی ہفتوں سے ( منگل اور جمعرات کو) تواتر اور تسلسل کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو ’’میلہ‘‘ لگا رکھا ہے، یہ ’’استقامت‘‘ بھی آٹھ فروری کیلیے معاون ’’اسلحہ‘‘ ثابت ہو سکتا ہے ۔جیلوں سے باہر پی ٹی آئی قیادت کا خیال ہے کہ اپنے بانی کی رہائی کیلیے سب حربے اور ہتھکنڈے استعمال کرکے دیکھ لیے ، مگر مطلوبہ کامیابی نہیں مل سکی ۔ پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ دو سال قبل اِسی آٹھ تاریخ کواُن کا مینڈیٹ چھینا گیا تھا ۔ اب وہ آٹھ فروری کو ’’پہیہ جام‘‘ کرکے اپنا غصہ نکال کر اپنا پیغام عالمی سطح تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔ شائد اِسی احتجاج کے پردے میں اُن کے بانی کی رہائی کی بھی کوئی سبیل نکل سکے ۔ پی ٹی آئی کی کوشش تھی کہ وہ آٹھ فروری کے احتجاج میں مولانا فضل الرحمن کو بھی ساتھ ملا لے ، لیکن مولانا صاحب اُن کے غچے میں نہیں آئے ۔ جے یو آئی (ایف) آٹھ فروری کو ، پی ٹی آئی سے الگ تھلگ، یوم ِ سیاہ منانے جارہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو خیریت میں رکھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل