Loading
ناروے کی ولی عہد شہزادی کے بیٹے ماریوس ہوئیبی کو زیادتی اور تشدد کے مقدمات میں گرفتار کرنے کے بعد آج عدالت میں پیش کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے کے شہر اوسلو کی ضلعی عدالت میں ولی عہد شہزادی کے بیٹے کو 38 الزامات کا سامنا تھا۔
استغاثہ کے مطابق 2018 سے 2024 کے درمیان مبینہ جنسی زیادتیوں کے علاوہ ملزم پر گھریلو تشدد، حملہ، منشیات رکھنے، چاقو سے دھمکی دینے اور عدالتی پابندی کی خلاف ورزی جیسے الزامات بھی ہیں۔
سماعت کے آغاز پر 29 سالہ ماریوس بورگ ہوئیبی نے عصمت دری کے چاروں الزامات سے انکار کر دیا۔ عدالتی کارروائی کا سلسلہ مارچ کے وسط تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
عدالت نے نئے الزامات کے بعد اتوار کو گرفتاری کے پیش نظر انہیں دوبارہ جرم کے خدشے کی بنیاد پر ایک ماہ تک حراست میں رکھنے کی اجازت دی ہے جبکہ مقدمے کی کچھ کارروائی بند کمرے میں ہوگی۔
یہ ٹرائل ایسے وقت شروع ہوا ہے جب ولی عہد شہزادی میٹ میٹ کا نام امریکا میں جاری جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں آنے پر شاہی خاندان پہلے ہی تنقید کی زد میں ہے۔
ولی عہد شہزادی نے بیان میں اعتراف کیا کہ انہیں ایپسٹین کے پس منظر کی زیادہ تحقیق کرنی چاہیے تھی اور ان روابط کو “باعثِ شرمندگی” قرار دیا۔
ادھر ناروے کی پارلیمنٹ نے حالیہ ہنگامہ آرائی کے باوجود بھاری اکثریت سے ملک میں بادشاہت برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔
یاد رہے کہ ماریوس ہوئیبی ولی عہد شہزادی میٹ میٹ کے اس تعلق سے پیدا ہونے والے بیٹے ہیں جو ان کی ولی عہد شہزادہ ہاکون سے شادی سے پہلے کا ہے۔
اسی وجہ سے ماریوس یوئیبی کے پاس کوئی شاہی خطاب یا لقب نہیں اور نہ ہی وہ ناروے کے شاہی دربار کے باضابطہ رکن شمار ہوتے ہیں۔
خیال رہے کہ 2024 کے وسط میں ہوئیبی نے عوامی طور پر تسلیم کیا تھا کہ وہ شراب اور کوکین کے نشے میں اُس وقت کی گرل فرینڈ پر تشدد کر بیٹھے تھے اور ان کے اپارٹمنٹ میں توڑ پھوڑ کی تھی۔
البتہ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ہوئیبی عصمت دری کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ وہ عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل