Saturday, February 14, 2026
 

غزہ امن بورڈ اجلاس سے قبل حماس نے اہم شرائط رکھ دیں

 



غزہ میں مجوزہ امن بورڈ کے اجلاس سے قبل فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے ممکنہ عالمی امن فورس کے کردار سے متعلق اہم شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بین الاقوامی فورس تعینات کی جاتی ہے تو اس کا دائرہ کار محدود ہونا چاہیے اور وہ فلسطین کے داخلی، سیاسی یا سکیورٹی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔ حماس کے ترجمان بسیم نعیم نے خبردار کیا کہ اگر غیر ملکی اہلکاروں نے داخلی امور میں مداخلت کی تو فلسطینی عوام انہیں قابض قوتوں کا متبادل سمجھیں گے۔ ان کے مطابق عالمی فورس کا کردار صرف فریقین کے درمیان حفاظتی بفر قائم رکھنے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے تک محدود ہونا چاہیے۔ ادھر ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عالمی فورس محض فریقین کے درمیان حفاظتی تہہ کے طور پر کام کرے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ یاد رہے کہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں فلسطین میں عبوری حکومت کے قیام، حماس کے کردار اور مستقل جنگ بندی سمیت مختلف امور پر غور کیا جائے گا، جبکہ عالمی امن فورس کی تعیناتی بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل