Saturday, February 14, 2026
 

امریکا میں سکھ رہنما کے قتل کی سازش میں بھارتی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کا انکشاف

 



امریکا میں سکھ رہنما کے قتل کی سازش میں بھارتی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کا انکشاف ہے۔ نیویارک ٹائمز اور امریکی عدالتی دستاویزات کے مطابق، بھارتی نژاد ملزم نکھل گپتا نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ بھارتی حکومت سے منسلک اہلکار کی ہدایات پر کام کر رہا تھا۔ نکھل گپتا کے مطابق، بھارتی سرکاری اہلکار نے سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کی شناخت اور پتہ فراہم کیا۔ اہلکار نے 18 جون 2023 کو ایک ویڈیو بھیجی جس میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر مردہ حالت میں دکھائے گئے، جس کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ سکھ رہنماؤں کو بیرونِ ملک بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی اٹارنی جے کلیٹن کا کہنا ہے کہ نکھل گپتا کا گمان تھا کہ وہ امریکہ میں کسی کو صرف آزادیٔ اظہارِ رائے کے استعمال پر قتل کر سکتا ہے، لیکن سازش ناکام ہونے کے باوجود ملزم کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکا میں براہِ راست سیاسی قتل کی سازش کا الزام قانونی طور پر ثابت ہو رہا ہے، اور بھارتی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے سے بھارت عالمی سطح پر ریاستی دہشتگردی کے زمرے میں آئے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی اہلکاروں کی جانب سے بیرونِ ملک مقیم افراد کے قتل کی سازش پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ بھارت دنیا بھر میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل