Loading
دبئی: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا روانہ ہو گئے ہیں جہاں امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہوگا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہوں گے۔
گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان پہلا دور عمان میں ہوا تھا، اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے مذاکرات ہوئے تھے تاہم خطے میں کشیدگی اور ایران و اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر پابند کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتے رہے ہیں، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا۔
خلیجی عرب ممالک نے بھی خبردار کیا ہے کہ کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے خطے میں نئی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کسی بھی سطح پر یورینیم افزودگی نہ کرے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پرامن جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق ایران ماضی میں 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر چکا ہے، جو ہتھیاروں کے درجے کے قریب سمجھی جاتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن سفارتی حل میں دلچسپی رکھتا ہے اور مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی نمائندے نئے دور کی بات چیت کے لیے یورپ پہنچ رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کا تمام افزودہ مواد ملک سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے۔
ادھر عالمی جوہری نگران ادارے کے سربراہ سے بھی ایرانی وفد کی ملاقات متوقع ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل